سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 25 of 315

سیرت طیبہ — Page 25

۲۵ (۵) پنڈت لیکھرام کو کون نہیں جانتا وہ آریہ سماج کے بہت بڑے مذہبی لیڈر تھے۔اور اس کے ساتھ اسلام کے بدترین دشمن بھی تھے جن کی زبان اسلام اور مقدس بانی اسلام کی مخالفت میں قینچی کی طرح چلتی اور چھری کی طرح کاٹتی تھی۔انہوں نے ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر کھڑے ہو کر اسلام اور مقدس بانی اسلام پر گندے سے گندے اعتراض کئے اور ہر دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو ایسے دندان شکن جواب دیئے کہ کوئی کیا دے گا۔مگر یہ صاحب رکنے والے نہیں تھے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پنڈت لیکھرام کا یہ مقابلہ حضرت مسیح موعود کے ایک مباہلہ پر ختم ہوا جس کے نتیجہ میں پنڈت جی حضرت مسیح موعود کی دن دونی رات چوگنی ترقی دیکھتے ہوئے اور ہزاروں حسرتیں اپنے سینے میں لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔انہی پنڈت لیکھرام کا یہ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی سفر میں ایک سیٹشن پر گاڑی کا انتظار کر رہے تھے کہ پنڈت لیکھرام کا بھی ادھر گذر ہو گیا اور یہ معلوم کر کے کہ حضرت مسیح موعود کو اس جگہ تشریف لائے ہوئے ہیں پنڈت جی دنیا داروں کے رنگ میں اپنے دل کے اندر آگ کا شعلہ دبائے ہوئے آپ کے سامنے آئے۔آپ اس وقت نماز کی تیاری میں وضو فر مار ہے تھے۔پنڈت لیکھرام نے آپ کے سامنے آکر ہندووانہ طریق پر سلام کیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔گویا کہ دیکھا ہی نہیں۔اس پر