سیرت طیبہ — Page 24
۲۴ (۴) زبان سے نکلتے۔قادیان میں ایک صاحب محمد عبد اللہ ہوتے تھے جنہیں لوگ پروفیسر کہہ کر پکارتے تھے وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بہت مخلص تھے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو مختلف قسم کے نظاروں کی تصویریں دکھا کر ا پنا پیٹ پالا کرتے تھے۔مگر جوش اور غصے میں بعض اوقات اپنا توازن کھو بیٹھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی نے بیان کیا کہ فلاں مخالف نے حضور کے متعلق فلاں جگہ بڑی سخت زبانی سے کام لیا ہے۔اور حضور کو گالیاں دی ہیں۔پروفیسر صاحب طیش میں آکر بولے کہ اگر میں ہوتا تو اس کا سر پھوڑ دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے ساختہ فرمایا نہیں نہیں ایسانہ چاہیے ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے۔پروفیسر صاحب اس وقت غصے میں آپے سے باہر ہورہے تھے جوش کے ساتھ بولے واہ صاحب واہ یہ کیا بات ہے آپ کے پیر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص برا بھلا کہے تو آپ فورا مباہلہ کے ذریعے اسے جہنم تک پہنچانے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کو ہمارے سامنے گالی دے تو ہم صبر کریں۔پروفیسر صاحب کی یہ غلطی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر صبر کس نے کیا ہے اور کس نے کرنا ہے مگر اس چھوٹے سے واقعہ میں عشق رسول اور غیرت ناموس رسول کی وہ جھلک نظر آتی ہے جس کی مثال کم ملے گی۔