سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 315

سیرت طیبہ — Page 26

۲۶ پنڈت جی نے دوسرے رخ سے ہو کر پھر دوسری دفعہ سلام کیا اور حضرت مسیح موعود پھر خاموش رہے۔جب پنڈت جی مایوس ہو کر لوٹ گئے تو کسی نے یہ خیال کر کے کہ شاید حضرت مسیح موعود نے پنڈت لیکھرام کا سلام سنا نہیں ہوگا حضور سے عرض کیا کہ پنڈت لیکھرام آئے تھے اور سلام کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی غیرت کے ساتھ فرمایا کہ ”ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے !!! (سیرۃ المہدی جلد ا حصہ اول صفحه ۲۵۴ وسیرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب) یہ اس شخص کا کلام ہے جو ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے مجسم رحمت تھا ہندوؤں میں اس کے روز کے ملنے والے دوست تھے اور اس نے ہر قوم کے ساتھ انتہائی شفقت اور انتہائی ہمدردی کا سلوک کیا مگر جب اس کے آقا اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت کا سوال آیا تو اس سے بڑھ کرننگی تلوارد نیا میں کوئی نہیں تھی، (4) اسی قسم کا ایک واقعہ لا ہور کے جلسہ وچھو والی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔آریہ صاحبان نے لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں شرکت کرنے کے لئے ہر مذہب وملت کو دعوت دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی باصرار درخواست کی کہ آپ بھی اس بین الاقوامی جلسہ کے لئے کوئی مضمون تحریر فرمائیں۔اور وعدہ کیا کہ جلسہ میں کوئی بات خلاف تہذیب اور کسی مذہب کی دل آزاری کا رنگ رکھنے والی نہیں