سیرت طیبہ — Page 113
۱۱۳ قدم خدا کے فضل و نصرت سے آگے سے آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔خدا کی غائبانہ مد دکوئی مادی چیز نہیں جو ٹو لنے سے محسوس کی جاسکے۔وہ ایک نور اور اقتدار کی کرن ہے جو ابتداء میں صرف روحانی آنکھ رکھنے والوں کو نظر آیا کرتی ہے۔اسی خدائی نصرت کو یاد کر کے حضرت مسیح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں اور کس شکر گزاری کے جذبے سے فرماتے ہیں:۔مجھ پر ہر اک نے وار کیا اپنے رنگ میں آخر ذلیل ہوگئے انجام جنگ میں اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۰) قطرہ سے دریا بنے کا ایک نظارہ تو اس جلسہ میں بھی نظر آ رہا ہے کہ پچہتر کی قلیل تعداد سے شروع ہو کر اب ہمارے جلسہ میں حاضرین کی تعداد خدا کے فضل سے پچہتر ہزار تک پہنچ گئی ہے اور ثریا کا روحانی نظارہ بھی انشاء اللہ اقوام عالم کی ہدایت کے ذریعہ دنیا اپنے وقت پر دیکھ لے گی۔(اله) ریاست کپورتھلہ کا ایک بڑا عجیب واقعہ ہے وہاں ایک مختصر مگر نہایت درجہ مخلص جماعت تھی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق تھا اور حضور بھی ان فدائی