سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 315

سیرت طیبہ — Page 114

۱۱۴ دوستوں کے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔جیسا کہ اور کئی دوسرے شہروں میں ہوا ہے کپورتھلہ کے بعض غیر احمدی مخالفوں نے کپورتھلہ کی احمدی مسجد پر قبضہ کر کے مقامی احمدیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی۔بالآخر یہ مقدمہ عدالت میں پہنچا اور کافی دیر چلتا رہا۔کپورتھلہ کے دوست بہت فکر مند تھے اور گھبرا گھبرا کر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتے تھے حضرت مسیح موعود نے ان دوستوں کے فکر اور اخلاص سے متاثر ہو کر ایک دن ان کی دعا کی درخواست پر غیرت کے ساتھ فرمایا گھبراؤ نہیں۔اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تمہیں مل کر رہے گی۔“ ( اصحاب احمد جلد ۴) مگر عدالت کی نیت خراب تھی اور حج کا رویہ بدستور مخالفانہ رہا۔آخر اس نے عدالت میں برملا کہہ دیا کہ تم لوگوں نے نیا مذ ہب نکالا ہے اب مسجد بھی تمہیں نئی بنانی پڑے گی اور ہم اسی کے مطابق فیصلہ دیں گے۔مگر ابھی اس نے فیصلہ نہیں لکھا تھا اور خیال تھا کہ عدالت میں جا کر لکھوں گا اس وقت اس نے اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں بیٹھ کر نوکر سے بوٹ پہنانے کو کہا۔نوکر بوٹ پہنا ہی رہا تھا کہ حج پر اچانک دل کا حملہ ہوا اور وہ چند لحوں میں ہی اس حملہ میں ختم ہو گیا۔اسی جگہ جو دوسراج آیا اس نے مسل دیکھ کر احمدیوں کو حق پر پایا اور مسجد احمدیوں کو دلا دی۔یہ اسی قسم کا غیر معمولی نشان رحمت ہے جس سے قو میں زندہ ہوتی اور نصرت الہی کا کبھی نہ بھولنے والا سبق حاصل کرتی ہیں کپورتھلہ کی یہ جماعت وہی فدائی جماعت ہے جس کے ایمان اور اخلاص کو دیکھ کر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح کپورتھلہ کی جماعت اس دنیا میں