سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 60 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 60

نظیر قربانی اور استقلال کا نمونہ دکھایا ہے سرولیم میورا اپنی کتاب ” محمد “ ( دی لائف آف محمد صفحہ ۹۷ ناقل ) میں لکھتے ہیں : محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طائف کے سفر میں ایک شاندار شجاعانہ رنگ پایا جاتا ہے۔اکیلا آدمی جس کی اپنی قوم نے اُس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اُسے دھتکار دیا خدا کے نام پر بہادری کے ساتھ نینوا کے یوناہ نبی کی طرح ایک بت پرست شہر کو تو بہ کی اور خدائی مشن کی دعوت دینے کے لئے نکلا۔یہ امر اس کے اس ایمان پر کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پر خدا کی طرف سے سمجھتا تھا ایک بہت تیز روشنی ڈالتا ہے۔“ (دیباچ تفسیر القرآن صفحه ۱۲۸) مدینہ کے لوگوں کو پیغام حق حج کے ایام میں۔۔۔۔۔۔۔۔آپ منی کی وادی میں پھر رہے تھے کہ چھ سات آدمی جو مدینہ کے باشندے تھے آپ کی نظر پڑی آپ نے اُن سے کہا آپ کس قبیلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا خزرج قبیلہ کے ساتھ۔آپ نے کہا وہی قبیلہ جو یہودیوں کا حلیف ہے؟ انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا کیا آپ لوگ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری باتیں سنیں گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے انہیں بتایا کہ خدا کی بادشاہت قریب آرہی ہے، بت اب دنیا سے مٹادیئے جائیں گے۔توحید کو دنیا میں قائم کر دیا جائے گا نیکی اور تقوی پھر ایک دفعہ دنیا میں قائم ہو جائیں گے کیا مدینہ کے لوگ اس عظیم الشان نعمت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے۔اور کہا آپ کی تعلیم کو تو ہم قبول کرتے ہیں باقی رہا یہ کہ مدینہ اسلام کو پناہ دینے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔اس کے لئے ہم اپنے وطن جا کر اپنی قوم سے بات کریں گے پھر ہم دوسرے سال اپنی قوم کا فیصلہ آپ کو بتا ئیں گے یہ لوگ واپس گئے اور انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں آپ کی تعلیم کا ذکر کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔۔جب اُن حاجیوں سے مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی کو سنا، آپ کی سچائی اُن کے 60