سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 59
طائف والوں کو پیغام حق حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ----۔۔” جب مکہ کے لوگوں نے باتیں سننے سے ہی انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ مارو اور پیٹوںگر بات بالکل نہ سنو، تو آپ نے طائف کی طرف رخ کیا طائف مکہ سے کوئی ساٹھ میل کے قریب جنوب مشرق کی طرف ایک شہر ہے ، جو اپنے پھلوں اور اپنی زراعت کی وجہ سے مشہور ہے۔یہ شہر بت پرستی میں مکہ والوں سے کم نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب آپ طائف پہنچے تو وہاں کے رؤساء آپ سے ملنے کے لئے آنے شروع ہوئے لیکن کوئی شخص حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک دن جمع ہوئے۔کہتے اُنہوں نے اپنے ساتھ لئے۔لڑکوں کو اُکسایا اور پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں اور بے دردی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھراؤ کرنا شروع کیا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہر سے دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے۔آپ کے پاؤں لہولہان ہو گئے اور زید آپ کو بچاتے ہوئے سخت زخمی ہوئے مگر ظالموں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا وہ آپ کے پیچھے چلتے گئے اور چلتے گئے جب تک شہر سے کئی میل دور کی پہاڑیوں تک آپ پہنچ گئے اُنہوں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا۔جب یہ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے تھے تو آپ اس ڈر سے کہ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نہ بھڑک اُٹھے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتے اور نہایت الحاح سے دعا کرتے الہی ان لوگوں کو معاف کر کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔“ 66 (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۲۷،۱۲۶) ”آپ کے اس سفر کے متعلق دشمنوں کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس سفر میں آپ نے بے 59