سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 5 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 5

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ایسا ہی قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور جو دنیا کو روشن کرتا ہے اور رحمت جس نے عالم کو زوال سے بچایا ہوا ہے آیا ہے اور رؤوف اور رحیم جو خدا تعالیٰ کے نام ہیں۔ان ناموں سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پکارے گئے ہیں اور کئی مقام قرآن شریف میں اشارات اور تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے۔جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ آل عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد واقرار لیا گیا کہ تم پر واجب ولازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان ختم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمتہ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور شعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چمکا صاف جتلا دیا کہ جلالیت الہی کا ظہور فاران پر آکر اپنے کمال کو پہنچ گیا اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعائیں فاران پر ہی آکر ظہور پذیر ہوئیں۔۔۔اور ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں سے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی رسول نہیں اُٹھا سود دیکھو حضرت موسی سے کیسی صاف صاف شہادت دی گئی ہے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہوگا اس کی شعائیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور سلسلہ ترقیات نور صداقت اس کی ذات جامع با برکات پر ختم ہے۔۔۔اس تمام تقریر کا مدعا وخلاصہ یہ ہے کہ عند العقل قرب الہی کے مراتب تین قسم پر منقسم ہیں اور تیسرا مرتبہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت اور آئینہ خدا نما ہے حضرت سید نا و مولا نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسلم ہے جس کی شعاعیں ہزار ہا دلوں کو منور کر رہی ہیں اور بے شمار سینوں کو اندرونی ظلمتوں سے پاک کر کے نور قدیم تک پہنچارہے ہیں۔واللہ در القائل۔محمد عربی بادشاہ ہر دوسرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی 5