مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 65
117 116 تھی حالانکہ اس کا ذکر حسین ابن الحق نے مقالہ العشر میں اور علی ابن عیسی نے تذکرۃ الکحالین میں صدیوں قبل کیا تھا۔پھر علامہ برہان الدین نفیس نے شرح الاسباب میں لکھا ہے کہ وہ شخص جو چھوٹے الفاظ کمزور نظر کی وجہ سے نہ پڑھ سکتا ہو تو وہ عینک کے استعمال سے ٹھیک طور پر پڑھ سکتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں اس وقت عینکوں کا عام رواج تھا۔ابوالمنصور نے غنی ومنی میں کمزور نظر کی وجوہات بیان کی ہیں۔ایسے شخص کو قبض کی شکایت رہتی ہے، وہ چمکدار چیز کی طرف دیکھتا رہا ہو، یا وہ چھوٹے حروف والی کتاب پڑھتا رہا ہو یا وہ شکر زیادہ کھا تا رہا ہو۔آخری نکته بالکل درست ہے کیونکہ زمانہ حال میں اس کو ڈائبیٹک ریٹینو پیتھی ( diabetic retinopathy) کہا جاتا ہے۔مشاہدے میں آیا ہے کہ ذیا بیطس کے مریضوں کی بینائی اکثر کمزور یا رفتہ رفتہ بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ابو منصور نے لکھا ہے کہ الکندی نے نہ صرف گلا کو ما کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے بلکہ اس کا علاج بھی خود کیا ہے۔محمد ابن منصور زریں دست، سلجوق سلطان ابوافتح ملک شاہ (1093ء) کے دور حکومت کا ماہر امراض چشم تھا۔اس نے آنکھوں کے علاج پر زبر دست کتاب نور العین لکھی۔هرش برگ (Hirschberg) نے اس کا جرمن میں ترجمہ کیا جو لیپزگ سے 1905 1905ء میں شائع ہوا۔ایک اور ماہر امراض چشم سمیع الدین نے گلا کو ما کو آنکھ کا سر درد بیان کیا تھا۔شام کے خلیفہ ابن ابی المحاسن نے 1258ء میں اپنی کتاب الکافی فی الکحل میں گلا گوما کے بہت سارے آپریشن (operation) بیان کیے تھے۔ابن الہیشم نے بھی اس موضوع پر بہت تحقیقات کیں۔اس نے جیومیٹری (geometry) اور علم بصریات کے قوانین کو ملا کر بہت سارے بصری مسائل (optical problems) کے حل پیش کیے اور عملاً ثابت کیا کہ جب کسی شے پر روشنی پڑتی ہے تو اس سے نکلنے والی شعاعیں ہماری آنکھ تک آتی ہیں اور ہم اس چیز کو دیکھ لیتے ہیں۔شیشے کی عینک کو لوگ جدید دریافت خیال کرتے ہیں لیکن شیشے کے عدسوں کا استعمال ابن الہیشم نے شروع کیا تھا۔نصیر الدین الطوسی نے علم بصارت پر دو مخنیم رسالے لکھے (1) المباحث فی انعکاس الاشاعت و الانعطاف (2) تحریر المناظر ابنِ ابراہیم شادیلی کی تصنیف کتاب العمده مصر میں نصابی کتاب تھی جس کا مطالعہ ہر طبیب کے لیے از بس لازمی تھا۔اس نے بیان کیا کہ انسانی دماغ اور آنکھ کا آپس میں گہرا تعلق ہے، نیز یہ کہ ہر انسانی نسل میں آنکھ کا رنگ مختلف ہوتا ہے۔کتاب میں اس نے ٹرے کو ما(trachoma) کے چار مر حلے بھی بیان کیے۔قطب الدین شیرازی نے علم بصریات (Optics) میں قوس وقزح کے بننے کی سائنسی وجہ بیان کی۔اس کے عبقری شاگرد کمال الدین الفارسی نے تنقیح المناظر لکھ کر ابن الہیشم کے بعض نظریات (theories) کی تصحیح کی۔شیرازی نے جن موضوعات پر خامہ فرسائی کی وہ ہیں: ریٹینا، آپٹکس ششی ایزما chiasma)، آپٹک نرو۔اس نے تھیوری آف ویژن (theory of vision) بھی پیش کی۔اس نے ابن الہیشم کے کیمرہ آئس کیور پر مزید تحقیق اور تجربات کیے اور بتایا کہ کیمرے میں چھوٹے سوراخ سے روشنی کے آنے پر جو عکس بنتا ہے وہ سوراخ کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔سوراخ جتنا چھوٹا ہو گا عکس اتنا ہی صاف و شفاف بنے گا۔انہوں نے فضائی علم تناظر ، روشنی کے انعطاف اور رنگوں کے اثرات پر سیر حاصل بحث کی۔امراض چشم پر مسلمان اطبا کے نتیجہ فکر سے صفحہ قرطاس پر جو سکہ بند کتا ہیں منتقل ہوئیں ان کی تفصیل ہمارے دور کے طبیب حاذق حکیم محمد سعید کی کتاب فارمیسی اینڈ میڈیسن تھرودی مڈل اجز (Pharmacy & Medicine Through the Middle Ages) میں صفحات 103-112 پر اس طرح درج ہے: تذكرة الحالين علی ابن عیسی كتاب التصريف ابوالقاسم الزہراوی ( باب امراض العين ) اعشر مقالات فی العین حنین ابن الحق شرح الاسباب برہان الدین ابن نفیس کامل الصناعة على ابن عباس المجوسی نور العيون الغافقی