مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 66
119 118 کتاب الحادی - کیفیتة محمد بن زکریا رازی کتاب نتیجه الفکر فی علاج احمد القیسی الابصار کتاب فی بیتہ العین محمد بن زکریا رازی امراض البصر تنقيح المناظر کمال الدین الفارسی غنی و منی الحسن القمرى كتاب العمدة المحلية في صداقه ابن ابراہیم صداقة الامراض البصرية الشاديلي نور العین زرین دست تدقيق النظار ابن الوافد اندلسی القانون في الطب ابو علی ابن سینا تشریح الابدان (Anatomy) کے موضوع پر القانون فی الطب کی مختلف جلدوں میں اظہار خیال کیا گیا ہے۔ان تمام حصوں کو ایک عالم نے اکٹھا کر کے شائع کیا ہے اور اس کے حاشیے میں ابن النفیس کی شرح بھی درج کی ہے۔عبد الطیف بغدادی نے مصر میں قحط کے دوران مردہ انسانوں کے جبڑے دیکھے اور ان میں ہڈیوں کی صحیح تعداد معلوم کر کے جالینوس کی تحقیق کو غلط ثابت کیا۔چودہویں صدی میں منصور ابن الیاس شیرازی نے فارسی میں کتاب تشریح بدن انسان لکھی۔یہ کتاب تیمور لنگ کے پوتے کے نام سے معنون تھی جو فارس کے صوبہ کا پندرہ سال (1409-1394ء) تک حکمراں رہا تھا۔یہ کتاب جسم کے پانچ نظام یعنی پانچ ابواب ( ہڈیاں، اعصاب، پٹھے، رگیں وشر یا نہیں اور دل و دماغ) میں تقسیم ہے۔اس کتاب میں بہت سارے ڈائیگرام دیے گئے ہیں جو امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈلین (National Library of Medicine) کی ویب سائٹ : (http:/www۔nlm۔nih۔gov/exhibition/islamic_medical/islamic-10۔htm/ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔10 علم المناظر علم المناظر (Optics) روشنی کے علم (Science of Light) اور اس کے مطالعے کا نام ہے۔اس کے ذکر میں یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ رازی پہلا طبیب تھا جس نے یہ اکتشاف کیا کہ آنکھ کی پیلی روشنی ملنے پر رد عمل کرتی ہے۔ابن سینا نے آنکھ کے چھے خارجی عضلات (extrinsic muscles) بیان کیے۔موتیا بند کے آپریشن کے لیے عمار بن علی الموصلی نے ایک خاص سوئی بنائی تھی۔بصریات میں الکندی کی اہم ترین تصنیف رسالۃ فی اختلاف المناظر ہے۔جیرارڈ نے اس کا لاطینی ترجمہ ڈٹی اسپیکٹیپس (De Aspectibus) کے نام سے کیا تھا۔یہ کتاب قرون وسطی میں ابن الہیشم کی تصنیف کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جاتی تھی بلکہ یورپ میں ہونے والی کئی دریافتیں اس کتاب کی مرہونِ منت تھیں : "The book on opitcs by Alkindi, provided Europe a basis on which to build future discoveries in the West۔" [32] علم المناظر میں اس نے چند اہم مسائل پر بحث کی جیسے خط مستقیم میں نور کا گزر، نظر کا بلا واسطہ عمل ، نظر کا آئینے کے ذریعے عمل ، نظر پر زاویه دید کا اثر ، دید کے مغالطے، الکندی کی اس با کمال کتاب سے راجر بیکن اور پولش طبیعیات داں وٹلو (Witelo) نے بہت کچھ سیکھا۔الکندی نے علم فلکیات کو بھی اپنا موضوع فکر بنایا اور چودہ تصانیف آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑیں جو اب تک اپنی جلا سے اذہان کو روشن کر رہی ہیں۔