مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 64 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 64

115 114 والی دریافتیں مسلمانوں نے کیں ان کی مختصر تفصیل پیش کی جاتی ہے۔آنکھوں کے امراض پر سب سے پہلے علی ابنِ عباس اہوازی نے کامل الصناعۃ میں پرس تفصیلات پیش کیں۔اس نیٹر ائی جیم (Pterygium) کے آپریشن کا بھی ذکر کیا ہے۔آنکھ کا سب سے پہلا ڈائیگرام حنین این الحق نے (877ء) اپنی کتاب العشر مقالات فی العین میں پیش کیا۔حسنین نے اپنے مقالے میں چیزوں کو دیکھنے کی جو تھیوری پیش کی اس کے مطابق اشیا کے دیکھنے میں آنکھ کا عدسہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔دیکھنے کی قوت تو دماغ سے آتی ہے ( مراد آپٹک نرو (optic nerve) ہے مگر اشیا سے ٹکرا کر آنے والی کر نیں آنکھ کے لینز (lens) میں جذب ہو جاتی ہیں۔علی بن عیسی (Jesu Hali 1931 ء ) طبیب حاذق اور ماہر امراض چشم تھا۔اس نے آنکھ کے امراض پر زبر دست تحقیقات کیں اور اپنے مشاہدات و تجربات ضخیم اور معیاری کتاب تذکرۃ الکحالین میں جمع کئے۔اس کتاب کے تین حصے ہیں۔اس تصنیف میں آنکھ کی 130 بیماریوں کا بیان ہے نیز ان 143 مفرد دواؤں اور جڑی بوٹیوں کے نام مع ان کے خواص بیان کیے گئے ہیں جو آنکھوں کے لیے مفید ہیں۔اس کا لاطینی ترجمہ 1499ء میں شائع ہوا، 1903ء میں اس کو فرانسیسی اور 1904ء میں جرمن زبان کے قالب میں ڈھالا گیا۔محمد بن زکریا رازی پہلا آپٹومیٹرسٹ (optometrist) تھا جس نے بصارت فکر اور تحقیقی انجاک کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ آنکھ کی پتلی روشنی ملنے پر رد عمل کرتی ہے۔اس نے اپنے مقالے میں لکھا کہ آنکھ سے شعائیں خارج نہیں ہوتیں جیسا کہ یونانی حکماء خیال کرتے تھے۔امراض چشم پر اس کی مبسوط کتاب کا ترجمہ جرمن زبان میں 1900 ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اس نے امراض العین پر اپنی شاہ کار (masterpiece) کتاب الحاوی کے علاوہ تین رسالے قلم بند کیے جن میں وہ عرش کے تارے توڑ لایا: کیفیت الابصار، کتاب فی بیتہ العین اور مقالہ فی علاج العین بالحدید۔کتاب الحاوی میں رازی نے گلا کو ما(Glaucoma) کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔اس نے یہ انقلاب آفریں نکتہ بھی بیان کیا کہ آنکھیں بذات خود روشنی کا منبع نہیں ہیں یعنی روشنی آنکھوں سے خارج ہو کر کسی شئے پر نہیں گرتی جس سے وہ ہمیں نظر آنے لگتی ہے، یہ نظریہ یونانی حکماء کے نظریات کے بالکل برعکس تھا۔یہ اکتشاف اس کی غیر تقلیدی اور آزاد سوچ کی بھی عمدہ دلیل ہے۔عالی وقار ابن سینا نے آنکھ کے اندر موجود تمام رگوں اور پٹھوں کو تفصیل سے بیان کیا۔این رشد نے بھی اس موضوع پر متعد در سالے تحریر کیے اور تحقیق کے بعد یہ بات کہی کہ آنکھ کا عدسہ نہ کہ لینز آنکھ کے اندر فوٹوری سیپٹر (photo receptor) کا کام کرتا ہے۔ابن الہیشم نے آنکھ کی تشریح کے کئی ڈائیگرام بنائے اور آنکھ کے مختلف حصوں کی تکنیکی اصطلاحات (technical terminology) بھی ایجاد کیں جیسے ریٹینا ( Retina)، کیا ریکٹ (Cataract) اور کور نیا (Cornea) ابھی تک مستعمل ہیں۔یوروپین زبانوں میں اصطلاحات اس کے بنائے ہوئے ڈائیگرام سے لی گئی ہیں یا ان کا معنوی ترجمہ کیا گیا ہے۔مثلاً : ثقب العنبيه (Pupil)، القرنیہ (Cornea) ، البیضیہ (Albugineous humor) یه (Crystalline humor) الزجاجیه (Virtuous humour)، الاعصاب البصری (Optic nerve) الجليد ابن الہیشم نے بیان کیا کہ روشنی (باہر سے) آنکھ کے حساس پر دے یعنی ریٹینا پر جس میں بصارت کی حس ہوتی ہے، اسی طرح گرتی ہے جس طرح تاریک کمرے (dark room) میں روشنی کسی سطح پر دیوار کے سوراخ میں سے گرتی ہے۔اس طرح پردہ بصارت پر جو امیج (image) بنتی ہے وہ آپٹک نرد کے ذریعے دماغ تک پہنچتی ہے۔ایک مغربی مصنف جے۔جے۔والش (J۔J۔Waish) نے اپنی کتاب دی پریکٹس آف میڈیسن (1767-The Practice of Medicine) میں لکھا ہے کہ رات کے وقت کے اندھے پن کی شناخت سب سے پہلے یورپ کے ماہر طب ہا بر ڈین (Haberden) نے کی