مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 122
231 230 مدارس ہندوستان کے مسلمان سلاطین کے عہد مسعود میں سلطان محمود غزنوی نے ایک جامع مسجد اور مدرسہ بنوایا تھا۔شہاب الدین غوری نے اجمیر میں متعدد دینی مدارس قائم کیسے تھے جو ہندوستان کے قدیم ترین مدارس ہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ جو علما دوسرے ممالک سے ہندوستان آتے وہ اپنے ساتھ چالیس چالیس اونٹوں پر کتابیں لاد کر لایا کرتے تھے۔سلاطین ہند جن علما یا سرکردہ افراد کو ہندوستان آنے کی دعوت دیتے وہ اگر خود نہ آسکتے تو کتابیں بھجوا دیا کرتے تھے۔سلطان شمس الدین التمش نے متعدد مدر سے قائم کیے۔معز الدین غوری کا جاری کردہ معزی مدرسہ آج بھی بدستور علم کی روشنی سے دنیا کو روشن کر رہا ہے۔فیروز شاہ تغلق نے جو مدرسہ کھولا اس کے مدرس مولانا جلال الدین رومی تھے۔شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں مدارس کے تعلیمی نصاب میں اخلاق کے علاوہ ریاضی ، طب ، منطق ، طبیعیات اور تاریخ کے مضامین شامل ہوتے تھے۔شاہجہاں نے دہلی کی جامع مسجد میں مدرسہ دار البقا بنوایا تھا۔آگرہ کی جامع مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ شہزادی جہاں آرا نے بنوایا تھا۔اور نگ زیب کے عہد میں جو جید علما مع اسلام جلاتے رہے ان میں مولوی مبارک، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز ، شاہ رفیع الدین ہمفتی صدرالدین، مولوی عبدالحی کے نام نامی قابل ذکر ہیں۔اور نگ زیب عالمگیر کے عہد میں سیال کوٹ علم کا گہوارہ تھا۔اس دور کے مدارس میں تدریس کا وقت صبح سے دو پہر اور نماز ظہر سے غروب شمس تک ہوتا تھا۔اٹھارویں صدی کے اوائل میں ایک بزرگ ملا نظام الدین نے دینی تعلیم کا نیا نصاب شروع کیا جس کو درس نظامی کہا جاتا ہے اور جو آج بھی دینی مدراس میں جاری ہے۔فلسفیان ہندوستان و پاکستان فیضی (1595-1547ء) شہنشاہ اکبر کا ملک الشعرا تھا۔وہ بیک وقت مؤرخ ، انشا پرداز اور فلسفی تھا۔اس کے قلم سے ایک سو کتا بیں نکلیں۔اس نے گیتا اور مہا بھارت ( کچھ حصوں کو ) کو فارسی میں منتقل کیا۔ریاضی کے کچھ مسائل لاطینی سے فارسی میں ترجمہ کیے۔قرآن پاک کی تفسیر سواطع الالہام میں قادر الکلامی کا ایسا نمونہ دکھا یا کہ اول تا آخر ایک بھی نقطہ دار حرف ( ب ، ت ن ، ج ش ) استعمال نہیں کیا۔شاہراہ معرفت پر ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں زمان و مکاں کے حجابات اٹھ جاتے ہیں۔مرزا عبد القادر بیدل (1722-1644ء) فکر ونظر کے اعتبار سے سراسر فلسفی تھا۔اس نے انداز ا130,000 معرفت سے بھر پور اشعار کہے۔ہر دیوان میں فلسفیانہ اشعار کثرت ملتے ہیں۔چند مشہور مجموعے یہ ہیں: کلیات، چہار عناصر، نسخه عرفان، طور معرفت، ساقی نامه، صنائع و بدائع۔مولانا ابوالکلام آزاد (1958-1888ء) برصغیر کے قادر الکلام ادیب اور بلند پایہ مقرر تھے۔علمی تبحر کا یہ عالم تھا کہ ہر کتاب پر مرحبا کی صدائیں بلند ہوئیں۔ایک درجن تصانیف میں سے ہر تخلیق ندرت خیال کا شاہکار ہے۔تذکرہ۔ترجمان القرآن۔غبار خاطر۔مکالمات۔مجموعہ مضامین۔راحت و الم کا احساس با ہر سے نہیں آتا بلکہ یہ خود ہمارا اندر کا احساس ہے جو کبھی زخم لگا تا اور کبھی مرہم بن جاتا ہے۔عشق الہی کی پہلی شرط ترک ماسوا ہے یہ جبھی ممکن ہے کہ دل چوٹ کھائے ، اسی چوٹ کا نام عشق ہے۔نیاز فتح پوری (1966-1984ء) پینسٹھ سال تک مسلسل تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔انشاء، تنقید، مذہب، فلسفہ، افسانہ پر 35 کتابیں لکھیں۔وہ مفکرین مغرب کی عقلیت سے بہت مرعوب تھے۔انہوں نے زندگی کے معموں کو بذریعہ عقل حل کرنے کی کوشش کی۔ان کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے ” نگار میں ان کی 65 غزلوں اور 5261 نثری تخلیقات نے لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں حرکت پیدا کی۔چند کتابیں یہ ہیں: من و یزداں، شاعر کا انجام، گہوارہ تمدن ، مذاہب عالم کا تقابلی مقابلہ۔عبد الماجد دریا بادی (1967-1892 ء ) علی گڑھ سے بی اے کرنے کے بعد