مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 123 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 123

233 232 دارالترجمہ، عثمانیہ یونیورسٹی سے منسلک ہو گئے۔کئی سال تک مفت روزہ سچ اور صدق جدید کے مدیر رہے۔درجن بھر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے چند فلسفیانہ ہیں: مبادی فلسفہ۔فلسفہ جذبات۔فلسفہ اجتماع۔مکالمات بر کلے (ترجمہ)۔علامہ محمد اقبال (1938-1873 ء) ہندو پاک کے اس عظیم القدر فلسفی کی زندگی اور شاعری پر ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔اردو کے علاوہ دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی ان کی شخصیت پر لکھا جا چکا ہے۔ڈاکٹر نکلسن (Nicholson) نے اسرار خودی کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔جرمنی کے مستشرق نے ان کی چند نظمیں جرمن میں ترجمہ کر کے چمڑے پر لکھوا کر علامہ کو بھجوائیں۔ترکی کے ادیب حسین دانش نے متعد د نظمیں ترکی زبان میں ترجمہ کی ہیں۔علامہ اقبال کی چند تصانیف یہ ہیں۔پیام مشرق، زبور عجم ، جاوید نامہ ضرب کلیم۔علامہ عنایت اللہ مشرقی (1963-1888ء) ممتاز ادیب ، مفسر، فلسفی اور آتش مزاج رہ نما تھے۔کیمبرج یونیورسٹی (برطانیہ) سے ریاضی میں اعلیٰ مہارت کی بنا پر رینگلر (Wrangler) کا خطاب ملا تھا۔چند تصانیف یہ ہیں: تذکرہ ، خریطہ، اشارات، قول فیصل، متعدد رسائل، مقالات، ارمغان حکیم وغیرہ۔ڈاکٹر ولی الدین (1967-1900 ء ) طویل عرصہ تک عثمانیہ یو نیورسٹی میں فلسفے کے معلم رہے۔فلسفے پر وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں: تاریخ مسائل فلسفہ، مقدمہ فلسفہ، فلسفہ کی پہلی کتاب، تاریخ فلسفہ اسلام (عربی سے ترجمہ)، اخلاقیات، فلسفہ کیا ہے؟، قنوطیت (فلسفه یاس)۔حرف آخر اس کتاب کے مطالعے سے قاری پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی ہو گی کہ یورپ نے مسلمانوں کی کتابوں کے تراجم کے ذریعہ سائنسی تحقیقات کو آگے بڑھایا مگر اس سلسلے میں انہوں نے جو بڑی علمی بددیانتی (intellectual dishonesty) کی وہ یہ تھی کہ انہوں نے ان کتابوں کے لاطینی تراجم کرتے وقت ان کے مصنفین کے ناموں کا بھی ترجمہ کر دیا۔لہذا ان ناموں سے یہ اخذ کرنا مشکل ہو گیا کہ ان کتابوں کے مصنف مسلمان تھے یا غیر مسلم۔جیسے الرازی (Rhazes) ، ابن سینا (Avicenna)، الجانی (Albatinius) ابوالقاسم الزہراوی (Albucasis) ، ابن رشد ( Averroes ) ، ابن الہیشم (Alhazen)، جابر ابن حیان (Geber)۔یہ اتنا بڑا علمی سرقہ تھا کہ آج مسلمانوں کو یہ طعنے سننے پڑتے ہیں کہ سائنس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔چونکہ ترجمہ کرنے والے اکثر راہب یا متعصب پادری تھے اس لئے ممکن ہے انہوں نے اسلام کے خلاف اپنا بغض اور باطنی رقابت کا اظہار یوں کیا کہ مسلمان حکماء کے نام ہی بدل دیے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ ان حکماء کے کارناموں پر مضامین اور کتابیں لکھی جائیں تا کہ وہ اپنی آب و تاب کے ساتھ اجاگر ہوں اور ان کی علمی فضیلت کی دھاک بیٹھ جائے۔مسلمان سائنس دانوں کے کارناموں کو یاد کر کے ہمیں ماضی میں کھو جانے کے بجائے اسلامی دنیا کے تابناک مستقبل کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عمارت کھڑی کرنی ہو گی تا کہ آنے والی