مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 121
229 228 شاہجہاں کے وزیر آصف خاں نے زیج شاہجہانی کے سنسکرت میں ترجمے کے لئے دہلی کے ممتاز براہمن عالم نیہ ند کو مامور کیا۔440 صفحات کا یہ ترجمہ سدھانتا سندھو 1630ء میں مکمل ہوا۔اس کی گیارہ نقلیں 45x33 cm کے جہازی کاغذ پر بنوا کر شمالی ہندوستان کے مسلمان شرفا میں تقسیم کی گئیں۔چار نقلیں اس وقت جے پور کے محل کی لائبریری میں موجود ہیں۔ایک زیج کے پہلے صفحہ پر شاہجہاں کی شاہی مہر ثبت ہے۔نتیہ نند نے اس ترجمے میں فارسی اور عربی کی اصطلاحات کو اس طرح پیش کیا تا کہ انہیں ہندو مہر بیت آسانی سے سمجھ سکیں۔اس نے ہندی اور اسلامی ہئیت میں فرق واضح کیا۔اس ترجمے کی تکمیل کے دوران نتیہ نند نے جو نئے الفاظ ایجاد کیے وہ فلپ ڈی ہا تر ( 1718ء) کے ایسٹرونومیکل ٹیبلز کے سنسکرت کے ترجمے میں بھی استعمال کیے گئے تھے [68]۔اس عہد کے محمد فاضل نے اپنی کتاب مجمع الفضائل شاہ جہاں کے نام معنون کی یہ 1836ء میں منصہ شہود پر آئی تھی۔شاہجہاں کے دور حکومت ہی میں موسیقی پر کتاب شمس الاصوات لکھی گئی۔اس کے علاوہ عنایت خاں نے شاہجہاں نامہ لکھا جس کا ترجمہ اے آر فلر (A۔R۔Fuller) نے کیا اور زیڈ اے ڈیسائی نے اسے مدون کر کے دہلی سے 1990ء میں شائع کیا ہے۔ہندوستان میں اسلامی طب کی بنیاد ابو بکر محمد ابن زکریا الرازی اور شیخ الرئیس ابوعلی حسین ابن سینا کی بصیرت افروز کتابوں پر رکھی گئی تھی۔ازبکستان کے صوبہ خوارزم میں ایک عالم سید اسماعیل جرجانی نے کتاب ذخیرہ خوارزم شاہی تحریر کی۔اس کتاب کا ہندوستان میں بارہویں صدی سے لے کر پندرویں صدی تک اثر قائم رہا۔اس وجد آفریں کتاب میں انسانی جسم کی ساخت، علم طب کی تعریف، بیماری کی شناخت ، مرض کی وجوہات ، بخار، زہر کے اثرات جیسے موضوعات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔اسی طرح ایک اور طبیب نفیس ابن عوض کرمانی (1424ء) نے مدلل اور مسکت کتاب شرح اسباب و علامات لکھی جس کا مطالعہ عام تھا۔ایران سے آئے ہوئے ایک کشمیری حکیم منصور ابن احمد نے کفایہ مجاہد یہ جیسی کتاب تصنیف کی۔اسی طرح بادشاہ ہمایوں کے ایک طبیب یوسف این محمد ہراتی کی کتاب میں امراض کے علاج اور ان کے نسخے دیے گئے تھے۔سلطان سکندر لودھی کے ایک وزیر نے کتاب معدن الشفاء سکندرشاہی لکھی جس میں اسلامی اور ہندی طب کی معلومات کو اکٹھا کیا گیا تھا۔اسی طرح نامور تاریخ داں محمد قاسم ہندوشاہ (متوفی 1824ء جو فرشتہ کے نام سے مشہور ہے ) نے کتاب دستور الاطباء لکھی۔شہنشاہ اکبر کے نامور وزیر ابولفضل کے بھتیجے نور الدین محمد عبد اللہ نے جڑی بوٹیوں اور مفرد دواؤں پر کتاب لکھی جس میں ان کے نام عربی، فارسی، لاطینی ، اسپینی ، ترکی اور سنسکرت زبانوں میں دیے گئے تھے۔یہ کتاب مغل بادشاہ شاہجہاں کے نام معنون تھی اور اس کا نام الفاظ الادویہ تھا۔حکیم علی گیلانی (1609-1554ء ) عہد مغلیہ کا نامور طبیب تھا جس کو طب، ریاضی اور دیگر علوم حکمیہ میں مہارت حاصل تھی۔وہ اکبر 1605-1556ء کے دربار سے وابستہ تھا جس نے اس کو جالینوس الزماں کا خطاب عطا کیا تھا۔وہ واحد ہندوستانی طبیب تھا جس نے ابن سینا کی کتاب القانون کی پانچوں جلدوں کی مکمل شرح لکھی۔اس کے مخطوطات رضا لائبریری رام پور میں موجود ہیں۔اس شرح کی پہلی جلد جامع الشرحین لکھنو سے 1950ء میں شائع ہوئی تھی۔اس کا ایک اور شہ پارہ ادب مجربات گیلانی ہے۔علم طب پر ایک اور کتاب محمد رضا آف شیرازی نے ریاض عالمگیری تصنیف کی جو شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے نام معنون تھی۔حکیم غلام امام نے ہندوستان میں فارسی میں علاج الغرباء لکھی جو 19 ویں صدی میں اس کی بے پناہ مقبولیت کے پیش نظر کئی بار شائع ہوئی تھی۔