مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 18
23 22 حقیقت یہ ہے کہ یونانیوں کے ہاں یہ ایک نظریاتی سائنس رہی مگر التانی نے اس کو عملی طور پر استعمال کیا۔چنانچہ اس کے بنیادی فنکشن سائن کو سائن اور ٹینجیٹ عربی کی اصطلاحیں ہیں۔سائن کی عربی اصل جیب ہے جس کا لاطینی ترجمہ سائن ہے۔کہا جاتا ہے کہ ریاضی میں ڈیسی مل فریکشن (decimal fraction) کا آغاز ایک ڈچ سائمن اسٹیون (Simon Stevin) نے 1589ء میں کیا۔یعنی 1/2 کو 0۔5 لکھا جا سکتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کا استعمال الکاشی نے اپنی کتاب مفتاح الحساب میں پندرہویں صدی میں کیا۔قرین قیاس ہے کہ سائمن نے یہ آئیڈیا الکاشی کی کتاب پڑھ کر لیا ہوگا۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ الجبرا کے سمبل X & Y کا استعمال فرانسیسی ریاضی داں ویٹا (Vieta) نے 1591ء میں شروع کیا جس نے اپنی کتاب میں مساوات کا حل ان حروف سے کیا۔حقیقت یہ ہے کہ الجبرا کے موجد مسلمان تھے جنہوں نے نویں صدی میں الجبرا کی مساوات میں ایسے ہی حروف کا استعمال کیوبک ایکوئٹیشن (cubic equation) کے حل میں کیا تھا۔اسی طرح یورپ کی کتابوں میں لکھا ہے صفر سے کم اعداد کا تصور ( یعنی منفی نمبر ) جیرانا مو کا رڈانو (Cardano) نے 1545ء میں پیش کیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ریاضی داں منفی نمبروں کا استعمال کار ڈانو سے چار سو سال قبل کر چکے تھے۔(7) کہا جاتا ہے کہ لاگ رقم (Logrithm) اور لاگ رقم ٹیبلز (tables) جان نیپئیر (John Napier) نے 1614ء میں دریافت کیے تھے۔امر واقعہ یہ ہے لاگ رھم مسلمانوں نے ایجاد کیے تھے۔(8) صاحب کمال انسان اور بلبل ہزار داستان عمر خیام نے ریاضی میں ایک تہلکہ خیز اضافہ کیا جس کو بائنومیل کو ایفی ٹیکینٹ (Binomial coefficients) کہا جاتا ہے۔یورپ میں اس دریافت کا نام پاسکل ٹرائی اینگل (Pascal's triangle) رکھ دیا گیا۔(9) جدید محققین جیسے ایڈورڈ کینیڈی (Edward Kennedy) اور آٹو نیو گے برگر (Neugeberger) نے تسلیم کیا ہے کہ کو پریکس (Copernicus متوفی 1543ء) نے جدید ایسٹرونومی کی جو عمارت تعمیر کی تھی وہ صرف اقلیدس کی کتاب العناصر اور جالینوس کی کتاب المجسطی کے مطالعے سے ممکن نہیں تھی۔بلکہ اس میں دو اور تھیورم (theorems) کا بہت دخل تھا۔یہ تھیورم کو پر ٹیکس سے تین سو سال قبل اسلامی ممالک میں وضع کیے گئے تھے جن کا مقصد یونانی علم ہئیت کی اصلاح تھا۔تھیورم آف نصیر الدین ( Theorem of Nasiruddin) کا نام تو سی کپل (Tusi Couple) بھی ہے جسے عالم بے بدل نصیر الدین القوسی نے بعد میں وضع کیا تھا۔اس تھیورم کی وضاحت کے لیے انٹرنیٹ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جہاں اس موضوع پر معلومات کا بیکراں ذخیرہ موجود ہے۔مختصر یہ کہ یہی تھیورم کو پر نیکس نے سولہویں صدی میں اپنی شاہکار کتاب میں پیش کیا اور جہاں القوسی نے اپنے ڈائیگرام میں الف لکھا تھا، کو پریکس نے اسے A لکھا، جہاں الطوسی نے 'ب' لکھا تھا ، اس نے نے لکھا اور ہو بہو وہی ڈائیگرام پیش کیا۔دوسرے تھیورم کا نام الا ردی تھیورم (Al-Urdi Theorem) ہے جومحی الدین الا روی (متوفی 1266ء) نے 1250ء میں پیش کیا تھا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہی تھیورم کو پر ٹیکس کی کتاب میں تین سو سال بعد نظر آتی ہے۔طرفہ یہ کہ الاردی نے یہ تھیورم ایک نئے تصور (concept) کی صورت میں پیش کر کے اس کا حسابی ثبوت بھی پیش کیا جبکہ کو پر ٹیکس نے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا۔چنانچہ کیپلر (Kepler) اور اس کے استاد میستلن (Maestlin) کے درمیان خط و کتابت میں کیپلر نے اس سے پوچھا کہ کو پر ٹیکس نے اس کا ثبوت کیوں نہیں پیش کیا تھا؟ اس کے استاد نے اس کا ثبوت خود پیش کیا۔بہر حال یہ دونوں تھیورم کو پر ٹیکس کی ایسٹرونومی میں اس قدر بنیادی حیثیت کے ہیں کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہے۔(10) غیاث الدین الکاشی (متوفی 1450 سمر قند ) نے ریاضی اور ہیئت میں اہم اضافے کیے۔خاص طور پر اس نے ڈے سی مل فریکشن میں اتنی اہم باتیں بیان کیں کہ وہ خود کو اس