مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 17 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 17

21 20 20 سے اس نے کچھ دور لمبی پرواز بھی کی۔مگر اس کے گلائیڈر (glider) میں اترنے کے لیے پرندوں جیسی دوم نہیں تھی اس لئے اس کو اترتے وقت چوٹیں آئیں۔راجر بیکن نے عربی کتابوں سے پرواز کا علم کئی سو سال بعد حاصل کیا۔بغداد ائر پورٹ پر ابن فرناس کا مجسمہ نصب ہے۔اسی طرح لیبیا نے ایک یادگاری ٹکٹ بھی اس کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جاری کیا تھا۔(2) مغرب میں کہا جاتا ہے کہ شیشے کے بنے ہوئے آئینوں کی ایجاد و نیس (Venice) میں 1291 ء میں ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اسپین میں شیشے کے آئینے گیارہویں صدی میں زیر استعمال تھے۔وینس کے لوگوں نے شیشہ سازی (glass production) کا علم شام (Syria) کے ماہرین سے نویں اور دسویں صدی میں حاصل کیا تھا۔(3) چودھویں صدی تک دنیا میں صرف آبی گھڑیاں (water clocks) ہوتی تھیں۔1335ء میں ملان (Milan) کے شہر میں پہلی میکانکی گھڑی (mechanical clock) بنائی گئی جو وزن سے چلتی تھی۔بقول ول ڈیورانٹ (Will Durant) حقیقت یہ ہے کہ پہلی گھڑی اسلامی اسپین میں ابن فرناس نے نویں صدی میں بنائی جو ٹھیک وقت دیتی تھی اس کا نام المقاطہ تھا۔پھر مسلمانوں نے رصد گاہوں میں استعمال کے لیے بیتی گھڑیاں بنائی تھیں جن کے ڈائیگرام دیکھے جا سکتے ہیں۔ہارون الرشید کے زمانے میں گھڑیاں عام طور پر بنائی جاتی تھیں۔چنانچہ اس نے اپنے ہم عصر فرانس کے بادشاہ شارلیمان (Charlemagnen) کو ایک گھڑی تھنے کے طور پر بھیجی تھی۔یہ یورپ میں پہنچنے والی پہلی گھڑی تھی۔اسی طرح بغداد کی مستنصر یہ یونیورسٹی کی بڑی دیوار کے دروازے پر ایک گھڑی آویزاں تھی جس کا ڈائیل (dial) نیلے رنگ کا تھا اس پر سورج مسلسل محو گردش رہ کر وقت بتلاتا تھا۔یورپ میں گھڑیاں بنانے کا علم عربی کتابوں کے لاطینی تراجم سے پہنچا۔ملاحظہ فرمائیے درج ذیل مسکت حوالہ : "We have the drawing of an astrolabe with gears belonging to Al-Biruni۔۔۔which was forerunner of the mechanical clock" [5] ابن شاطر نے دمشق کی امیہ مسجد کے مینار پرشی گھڑی (sun dial)1371ء میں بنائی تھی جو طلوع آفتاب، نصف النہار، اور غروب آفتاب کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچوں نمازوں کے اوقات بتاتی تھی۔(4) مغرب میں کہا جاتا ہے کہ گیلی لیونے ستر ہویں صدی میں پینڈولم (pendulum) ایجاد کیا تھا۔اس نے گر جا گھر میں لگے چہل چراغ کو ہوا کے جھونکے سے جھولتے دیکھا جس سے اس کو یہ تحریک ملی۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پینڈ ولم مصر کے ممتاز سائنس داں ابن یونس نے دسویں صدی میں ایجاد کیا تھا۔جس نے جھولنے والی گردش ( oscillatory motion) کوتحریر میں بیان کیا۔مسلمان گھڑی سازوں نے اس کا استعمال گھڑیوں میں پندرہویں صدی میں کیا تھا۔(5) آئزک نیوٹن (Isaac Newton) نے روشنی (light)، عدسہ (lens) اور پرزم (prism) کا صحیح مصرف بیان کیا جو کہ علم مناظر (optics) کی بنیاد ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گیارہویں صدی کے مسلمان سائنس داں ابن الہیشم نے صدیوں قبل ایسے نظریات پیش کیے تھے جن کو بعد میں علم مناظر کی بنیاد بنایا گیا۔بہت سے محققین نے اس کو علم بصریات کا جد امجد کہا ہے۔سولہویں اور ستر ہویں صدی میں یورپ میں جو کتا میں شائع ہوئیں ان میں ابن الہیثم کو بطور سند پیش کیا جاتا رہا۔اس نے کیمرہ آ سکیورا (camera obscura) کا تصور پیش کیا جس سے جدید کیمرہ ایجاد ہوا۔اس طرح کہا جاتا ہے کہ نیوٹن نے سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا کہ سفید روشنی مختلف رنگوں کی شعاعوں سے بنی ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے اس کا سہرا بھی ابن الہیشم اور چودہویں صدی کے ایرانی سائنس داں کمال الدین فارسی کے سر ہے۔نیوٹن نے روشنی کے موضوع پر کئی اہم دریافتیں کیں مگر یہ ان میں سے نہیں تھی۔(6) کہا جاتا ہے کہ ریگونومیٹری(trigonometry) کو یونانیوں نے فروغ دیا تھا۔