مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 19 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 19

25 24 کا موجد تصور کرتا تھا۔اس کو لمبی لمبی کیلکولیشن (calculation) کرنے کا بہت شوق تھا۔اس نے ایکوئٹیشن (equation) کے حل کرنے کا ایک ایسا نیا طریقہ ایجاد کیا جسے اب ہارنر کا طریقہ (Horner's method) کہا جاتا ہے۔(11) ابن شاطر نے چاند کا جو ماڈل پیش کیا اور عطارد ( Mercury) کی حرکت کے بارے میں جو ماڈل تیار کیا وہ ہو بہو وہی ہے جو بعد میں کو پرنیکس نے پیش کیا تھا۔(12) جابر ابن الفلح اندلس کا ایک عظیم ریاضی داں تھا جس نے پلین اور اسفیر یکل ٹریگا نو میٹری (plane and spherical trigonometry) میں بہت اضافے کیے۔اس کی کتابوں کے تراجم لاطینی اور عبرانی زبانوں میں کیسے گئے تھے۔عجیب بات ہے کہ ٹریگا نومیٹری کے مسائل کو حل کرنے والے اس کے پیچیدہ طریقے پندرہویں صدی کے عظیم ریاضی داں جو بان مولر (1476-Muller) کی کتاب ڈائی ٹرائی اینگولس (1464-Die Triangulis) میں پائے گئے۔اس نے بعض پیرا گراف تو ہو بہو نقل کئے ہیں۔چنانچہ اٹلی کے ریاضی داں جی۔کار ڈانو (G۔Cardano متوفی 1576 ء) نے اس علمی سرقے کو اپنی کتاب میں بے نقاب کیا ہے۔مزے کی ایک اور بات یہ ہے کہ کو پرنیکس نے اپنے علمی شاہکار میں جس قسم کی ٹریگا نومیٹری کا پنی کتاب کے شروع میں ذکر کیا ہے اس کی تحریک اسے جابر کی اصلاح المسطی سے ملی جو اس کے کسی دوست نے اسے تحفے میں دی تھی۔اس کتاب کے مطالعے کے بعد کو پر نیکس نے جابر کی طرح بطلیموس کے نظریات پر تنقید کر کے ایسے نظام کائنات کا خاکہ پیش کیا جس کا مرکز آفتاب تھا۔(13) مسلمان ریاضی دانوں کو اقلیدس کے مفروضہ پنجم ( fifth postulate) کو دریافت کرنے کا بہت شوق تھا۔اس ضمن میں نصیر الدین طوسی نے ایک خاص جیومیٹرک کنسٹرکشن (geometric construction) دریافت کی۔طوسی کی اس دریافت کو نیوٹن (Newton) سے پہلے برطانیہ کے عظیم ریاضی داں جان والس (1703-1616 J۔Wallis) نے اپنی ریسرچ میں استعمال کیا۔اس کے بعد ایک اور ریاضی داں سچیر کی (1733-1667 Saccheri) نے بھی اسے استعمال کیا مگر کسی نے بھی اس کا سہرا طوسی کے سر نہیں باندھا۔(14) بغداد کے ریاضی داں ثابت بن قرة (متوفی 901ء) نے ایمی کیبل نمبرز ( amicable numbers) معلوم کرنے کے لیے ایک منفرد فارمولا دریافت کیا تھا۔عجیب بات ہے کہ سات سو سال بعد فرانس کے ممتاز ریاضی داں پیر فرما(۔65-Pierre Fermat1601) نے ثابت بن قرة کے اسی فارمولے سے مشابہ فارمولے کو استعمال کر کے ایمی کیبل نمبر ز کا دوسرا جوڑ (second pair of amicable numbers ) دریافت کیا۔مگر اتنی تکلیف گوارا نہیں کی کہ وہ ثابت بن قرة کے کام کا ذکر کرتا۔(15) قابل رشک ماہر فلکیات ابو الوفا نے 998ء میں ہئیت کے علم میں ایک بنیادی چیز دریافت کی جسے تھر ڈلونران ایکوالٹی (third lunar inequality) کہا جاتا ہے مگر چھ سو سال بعد اس کا سہرا بھی یورپ میں ڈینش ماہر ہئیت ٹانگو برا ہے کے سر باندھ دیا گیا۔[6] ( 16 ) سلطان القلم ابوریحان البیرونی دنیا کا پہلا ریاضی داں تھا جس نے ٹریگا نومیٹری کو ریاضی کی الگ شاخ تسلیم کیا تھا۔اس نے علم مثلث کے بعض اہم ترین مسائل کی کتاب القانون المسعودی میں وضاحت کی ہے ان میں سے ایک کا نام نظریہ عوامل ( Theory of Functions) ہے۔یہ آج کے دور میں جس طرح لکھا جاتا ہے اس کا سلسلہ لا متناہی ہے مگر البیرونی نے اسے صرف تین درجے تک لکھا ہے۔اس کلیے کو یورپ میں نیوٹن اور اس کے چند ہم عصر ریاضی دانوں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔[7] (17) شام اور مصر میں اطبا کے سرخیل ابن النفیس نے ریوی دوران خون (pulmunary circulation system) تیرہویں صدی میں دریافت کیا۔اس کے تین سو سال بعد پرتگال کے مائیکل سرویس (Michael Servetus) نے یہی نظریہ پیش کیا۔یورپ میں اس دریافت کا اعزاز ولیم ہاروی اور سرویس کو دیا جاتا ہے۔(18) جامع کمالات را زی پہلا کیمیا داں تھا جس نے بیان کیا کہ