مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 67
121 120 ابن الہیثم کو بصریات کے مضمون پر بڑی دسترس حاصل تھی جس کی بنا پر اس کو عالمگیر عظمت اور شہرت حاصل ہوئی۔یورپ میں بھی وہ ماہر بصریات کے طور پر بہت مقبول رہا ہے۔اس کی شہرہ آفاق تصنیف کتاب المناظر جو سات جلدوں پر مشتمل ہے، بصریات کی ایک اہم کتاب ہے۔اس شہرہ آفاق کتاب میں اس نے بصریات کے موضوع پر ایسے ایسے زلزله خیز اکتشافات کیسے کہ اس کو علم مناظر کا جد امجد تسلیم کیا جاتا ہے۔( یہ کتاب AMAZON۔COM سے خریدی جا سکتی ہے)۔انگریزی میں اس کا ترجمہ عبد الحمید صا برا نے دی آپٹکس آف الہیشم (The Optics of Alhazen) کے نام سے دو جلدوں میں کیا جسے لندن یونیورسٹی نے 1989ء میں شائع کیا۔دونوں جلد میں کوئیز یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہیں۔کتاب اول میں اس نے نظر یہ نور و بصارت کو بیان کیا ہے۔کتاب دوئم میں اس نے تعقل (Cognition) کا نظریہ پیش کیا ہے جس کی بنیاد بصری حواس پر ہوتی ہے۔کتاب سوئم میں دو چشمی بصارت پر بحث کی گئی ہے، اس میں بصارت اور پہچان کی غلطیوں کی بھی تو جیہہ پیش کی گئی ہے۔کتاب چہارم کا موضوع انعکاس ہے۔اس حصے میں وہ بتاتا ہے کہ اگر شعارع منعکس جو کسی بھی قسم کے آئینے سے پیدا ہو کر آنکھ تک پہنچتی ہے تو اس کی شعاع واقع کیسے دریافت کی جائے گی ؟ کتاب پنجم میں انعکاس پر مزید تحقیق کی گئی ہے۔اس باب میں اس نے آنکھ کی ساخت بھی بیان کی ہے۔انعکاس کے سبب پیدا ہونے والی بصری غلطیوں پر بحث باب ششم میں کی گئی ہے۔کتاب ہفتم نظریہ انعطاف سے متعلق ہے۔تمام مسائل پر بحث کرتے وقت آنکھ کی پوزیشن کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔کتاب المناظر علم بصارت پر دنیا کی سب سے پہلی اور جامع کتاب تھی۔یہ دنیا کی سب سے پہلی معیاری نصابی کتاب تھی جس کا ترجمہ لاطینی میں Thesaurus Opticus کے عنوان سے کیا گیا اور جسے بازل (سوٹزر لینڈ) سے 1572ء میں رز نر (Risner) نے شائع کیا۔اس کتاب نے چھ سو سال تک تمام سائنس دانوں جیسے قطب الدین شیرازی، پیکا الله اعراف والعديد من المسيرة ابن الہیثم کی کتاب المناظر میں دی ہوئی ڈائیگرام جس میں اعصاب بصری کی وضاحت کی گئی ہے راجر بیکن ، جون پیکھم ) جونم (John Peckham) ، لیوی بن جرمن ( Levi Ben Gerson) وٹلو (Witelo)، اسٹل (Snell) کو ورطہ حیرت میں ڈالے رکھا اور وہ اسے بطور مآخذ استعمال کرتے رہے۔اس کتاب کو کیپلر (Kepler) نے بھی اپنی تحقیق میں استعمال کیا تھا [33]۔کیپلر کی کتاب آپ پٹکس (Optiks) کے شائع ہونے تک یورپ میں یہ مقبول عام کتاب تھی۔آپٹکس پر نیوٹن کے نظریات میں بھی اس کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔راجر بیکن عربی زبان سے شناسا تھا چنانچہ اس نے عربوں سے جو کچھ سیکھا اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا : "we have it all from them (unbelievers)۔" را جر بیکن کی مبسوط کتاب اوپس مے جس (Opus Majus) کا پانچواں باب اس کی اپنی سوچ کی پیداوار نہیں بلکہ یہ ابن الہیشم کی کتاب المناظر کی صریح نقل اور شرح ہے [34]۔بیکن کی یہ کتاب کوئیز یونیورسٹی کی اسافر لائبریری میں موجود ہے۔راقم نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔پانچویں حصے کا عنوان آپٹیکل ہے۔اس میں راجر بیکن علم بصریات پر الہیثم کے علاوہ ابن سینا اور