مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 4
و پیاده سائنس کا مسلمان طالب علم جب یہ دیکھتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے اور سائنس کی ساری دریافتیں اور ایجادیں یورپ اور امریکہ کی رہین منت ہیں تو اسے بہت مایوسی ہوتی ہے۔سائنس کے نقشے میں مسلمانوں کو نہ دیکھ کر اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے دینیات اور شعر و ادب کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کوئی قابل ذکر کام انجام نہیں دیا ہے۔دوسری قومیں ہم سے علمی و سائنسی لحاظ سے امتیاز رکھتی ہیں اور دنیا کی سائنسی تاریخ ان کے کارناموں سے منور ہے۔یہ خیال سائنس کے نوجوان طلبہ ہی کے دل میں نہیں پیدا ہوتا، بہت سے پڑھے لکھے افراد کے ذہنوں میں بھی یہ بات رہتی ہے کہ مسلمانوں کا سائنس سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔اس کا تعلق محض مغربی اقوام سے ہے اور یورپ اور امریکہ ہی کے محققین نے سائنس کی مختلف شاخوں میں نت نئی دریافتیں کی ہیں اور سائنس کا ہر مضمون ان کے گراں بہا احسانات کا اسیر ہے۔دراصل اس احساس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ایک، تاریخ سائنس سے بے خبری اور مسلمانوں کے عظیم الشان علمی کارناموں سے مکمل طور پر ناواقفیت ، دوسرے، اہل مغرب کی طرف سے انہیں چھپانے کی منظم کوششیں، تیسرے موجودہ زمانے میں سائنس ٹیکنالوجی اور طب کے میدان میں محیر العقول کارناموں اور اکتشافات میں کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے یورپ اور امریکہ کے سائنس دانوں کو حاصل بھاری سبقت اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی تشہیر۔سائنس کے اس عہد میں تاریخ کی ورق گردانی پدرم سلطان بود کی بات نہیں ہے۔اس