مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 5 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 5

کے مطالعے سے اسلاف کے وہ کارنامے سامنے آتے ہیں جو انہوں نے گزشتہ ادوار میں سائنس کی ترقی و پیش رفت کے لیے انجام دیے ہیں۔کوئی دریافت اچانک ظہور میں نہیں آتی ، وہ بڑے اتار چڑھاؤ اور ایک ارتقائی تسلسل کا نتیجہ ہوتی ہے، اس کی تہ میں بہت سی معلوم و نا معلوم کاوشوں کو دخل ہوتا ہے اور اس کی مکمل و ترقی یافتہ شکل بہت سے تجربوں اور مرحلوں سے گزرنے کے بعد وجود پذیر ہوتی ہے۔اس کے عہد بہ عہد ارتقا کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ سائنس کے انکشافات کے لئے راستہ ہموار کرنے میں کس طرح پیش رو محققین نے اپنی زندگیاں کھپائی ہیں اور کس عزم و حوصلے سے نا مساعد اور دشوار حالات میں اس کی شمع کو انہوں نے روشن رکھا ہے۔ان کے خون جگر کے بغیر سائنس کا یہ نقش نا تمام رہتا اور کوئی دریافت اتنی جلدی منصہ شہود پر نہ آتی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مرکز فروغ سائنس کے قیام کا ایک بنیادی مقصد جہاں دینی مدارس کے لئے سائنس کے مختلف عنوانات پر کتابیں مہیا کرنا اور ان کے معیار وسطح کے مطابق سائنس کی معلومات سے انہیں بہرہ ور کرنا ہے، وہاں ورکشاپ اور مذاکروں کے ذریعے سائنس سے دلچسپی اور فروغ بھی اس کے پیش نظر ہے۔مسلمانوں کا سائنس سے جو رشتہ رہا ہے اور انہوں نے سائنس کی تاریخ میں جو قابل قدر نقوش ثبت کیے ہیں اس کا تعارف بھی اس کے منصوبے میں شامل ہے۔یہ کتاب اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔محمد ذکر یا ورک صاحب ایک بڑے وسیع المطالعہ شخص ہیں۔انہوں نے نہ صرف تاریخ طب و سائنس کی مختلف زبانوں کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے بلکہ دنیا کے ان اہم کتب خانوں میں جو اپنے پیش قدر مخطوطات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں، خود جا کر بہت سے مخطوطات ملاحظہ کئے ہیں اور ان سب کی روشنی میں سائنس کے مختلف مضامین میں مسلمانوں کے کارناموں اور ان کی تصانیف کا ذکر کیا ہے۔ان کی اس تالیف کا مقصد نوجوان مسلمانوں کے دلوں میں سائنس کی محبت اور رغبت پیدا کرنا ہے۔انہوں نے اس حکایت لذید کومستند حوالوں اور خود اہل مغرب کے بیانات کے ذریعے مرتب کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں اگر چہ کافی اختصار سے کام لیا گیا ہے لیکن اس مختصر جائزے سے سائنس میں مسلمانوں کے حصے کا بھر پور تعارف ہوتا ہے اور یہ اندازہ کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی۔ڈاکٹر سید محمد ابوالہاشم رضوی صاحب نے مرکز فروغ سائنس کے کاموں میں جو غیر معمولی دلچسپی لی ہے اور جس جذبے اور انہماک سے وہ اسے ترقی دینے کے لیے کوشاں ہیں ، وہ بے حد قابل ستائش ہے۔مجھے امید ہے کہ ان کے زیر اہتمام یہ مرکز اپنے ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کرے گا جس کے لئے اسے قائم کیا گیا ہے۔تاریخ سائنس پر اس مفید اور معلومات افزا کتاب کی اشاعت کے لئے وہ ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں۔علی گڑھ ۲۸ دسمبر ۲۰۰۴ء سید ظل الرحمن صدر ابن سینا اکیڈمی آف میڈیول میڈیسن اینڈ سائنسیز