مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 84 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 84

155 154 العالم ) ، حاجی خلیفہ 1657ء ( کشف الظنون)، کارٹو گرافی دنیائے اسلام کا سب سے پہلا کارٹو گرافر موسیٰ الخوارزمی تھا جس نے اپنے تیار کردہ نقشوں کی وضاحت کی طور پر کتاب صورۃ الارض لکھی تھی۔اس کے بنائے ہوئے نقشوں میں طول بلد ، عرض بلد نہ دیے گئے تھے۔خلیفہ المامون کے حکم پر جن ستر سائنس دانوں نے باہم مل کر دنیا کا ایک نقشہ تیار کیا تھا اس ٹیم میں الخوارزمی بھی شامل تھا۔البلاذری نے فتوح البلداں میں لکھا ہے کہ خلیفہ المنصور کو بصرہ کی تمام نہروں کا نقشہ پیش کیا گیا تھا۔ابوزید بلخی کی اٹلس کو اسلامی اٹلس ( Islamic Atlas) کہا جاتا ہے۔اس میں اس نے دنیا کا ایک نقشہ دینے کے علاوہ عرب کا نقشہ بحر ہند کا نقشہ، مراکش، الجیریا کا نقشہ بحیرہ روم کا نقشہ اور دنیائے اسلام کے مختلف حصوں کے بارہ نقشے دئے تھے۔اس اٹلس کی وضاحت کے طور پر اس نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ابوعبداللہ المقدسی نے کتاب احسن التقاسیم میں ہر وہ خطہ جس کا اس نے سفر کیا تھا اس کے حالات دیتے ہوئے اس کا نقشہ شروع میں دیا۔اس نے اسلامی دنیا کو چودہ حصوں میں تقسیم کر کے ایک رنگین نقشہ دیا جس میں سڑکوں کا رنگ سرخ، ریت کو پہلا نمکین پانی والے سمندر کو سبز ، دریا نیلے رنگ کے اور پہاڑ بھورے رنگ کے تھے۔البیرونی نے کتاب التفہیم میں دنیا کا گل نقشہ دیا تھا تا کہ سمندروں کا محل وقوع پیش کر سکے۔آثار الباقیہ میں اس نے زمین اور آسمان کو پروجیکٹ کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ وضع کیا تھا۔القزوینی نے بھی دنیا کا ایک نقشہ تیار کیا۔عبد الرحمن الصوفی نے قاہرہ میں قیام کے دوران 1040 ء میں دو فلکیاتی گلوب بنائے تھے۔الا دریسی کے جدت پسند دماغ نے سسلی کے بادشاہ را جر دوم ( Roger II) کے دربار میں 1154ء میں چاندی کا ایک گلوب اور دنیا کا گول نقشہ ایک ڈسک پر تیار کیا جس میں یورپ، ایشیا، افریقہ، درمیان میں جزیرہ نما عرب، بحیرہ روم صاف نظر آتے ہیں۔اس نے ایک زبر دست اٹلس تیار کی جس میں 73 نقشے دیے گئے تھے۔موصل کے ابنِ حولہ نے 1275ء میں کانسے کا ایک گلوب بنایا تھا۔ترکی کے پیری رئیس (Piri Rais) نے اوشینو گرافی پر ایک عمدہ کتاب 1521ء میں لکھی جس میں بحیرہ روم کے تمام ساحلی علاقوں کے نقشے بھی دیے گئے تھے۔