مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 83
153 152 دریافت ہوئی تھی۔مثلاً المسعودی نے اپنی کتاب مروج الذہب میں لکھا ہے کہ اسپین کے خلیفہ عبد اللہ ابن عمر (912-888ء) کے دور میں قرطبہ کا ایک نیوی گیٹر ابنِ سعید ابن اسود اٹلانٹک اوشین کو 889ء میں پار کر کے ارض مجہولہ (ساؤتھ امریکہ ) تک گیا اور وہاں سے نایاب چیزیں لے کر آیا۔اسی طرح اس نے دنیا کا جو نقشہ تیار کیا تھا اس میں اٹلانٹک اوشین کو تاریکی اور دهند والاسمندر اور امریکی براعظم کو ارض مجہولہ لکھا تھا۔اسی طرح یہ بات بھی مصدقہ اور مسلم الثبوت ہے کہ ابوریحان البیرونی نے امریکی براعظم کے ہونے پر قیاس آرائی کی تھی۔ابن عربی نے فتوحات مکیہ میں لکھا ہے کہ میں نے مغرب کی طرف دیکھا تو مجھے کشف میں نظر آیا کہ سمندر کے اس پار ایک اور ملک بھی ہے۔اندلس کے تاریخ داں ابوبکر ابن قطبیہ نے اپنی کتاب میں ابن فرخ کا واقعہ بیان کیا جو فروری 999ء میں بحری سفر کر کے گنڈو ( کیناری آئی لینڈ ) گیا ، وہاں کے بادشاہ گو آنا ریگا (King Guanariga) سے اس کی ملاقات ہوئی مئی کے مہینے میں وہ لوٹ آیا۔الا در سیسی (1155ء) نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بارہویں صدی میں نارتھ افریقہ کے آٹھ جہاز راں امریکہ تک گئے تھے۔یہ سفر انہوں نے لزبن (Lisbon) سے شروع کیا ، ان کے جہاز میں کھانے پینے کی چیزیں کئی مہینوں تک کے لیے کافی تھیں۔کئی ہفتوں کے سفر کے بعد جب وہ خشکی پر پہنچے تو ان کو گرفتار کر لیا گیا مگر ایک عربی بولنے والے مترجم نے ان کو رہائی دلوائی۔گویا مسلمان امریکہ میں موجود تھے۔مسلمان جہاز رانی میں اس قدر ماہر تھے کہ ان کے لئے بحر اوقیانوس کو پار کر کے ساؤتھ امریکہ تک آنا جانا ہر گز اچنبھے کی بات نہیں تھی۔چودہ زبانوں کے ماہر سارٹن (1956-1884 G۔Sarton) نے انٹروڈکشن ٹو ہسٹر ی آف سائنس (Introduction to History of Science) صفحہ 724 پر لکھا ہے کہ آئس لینڈ کا ایک شخص لیف ایرکسن (Leif Eericsson) اتفاق سے 1000ء میں امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر پہنچ گیا۔کچھ عرصہ بعد کینیڈا کے مشرقی صوبوں نیوفا ؤنڈ لینڈ اور لیبراڈور میں آئس لینڈ کے لوگوں کی کالونی قائم ہوگئی۔اس کے بعد 1006ء میں گرین لینڈ سے تھور فن کارل سیفنی (Thorfin Karlsefni) امریکہ پہنچ گیا۔اس امر سے اس دعوی کو تقویت ملتی ہے کہ کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) سے کئی صدیاں قبل امریکہ دریافت ہو چکا تھا۔ہندوستان کے ایک اسکالر نفیس احمد نے اپنی کتاب مسلم کنٹری بیوشن ٹو جیو گرافی [43] میں جن چالیس مسلمان جیو گرافرز کے اسماء گرامی اور کتابوں کے نام دیے ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے: موسیٰ الخوازی (کتاب صورة الارض)، الکندی (رسم المعمور من الارض)، سرخشی (کتاب المسالك والمالک، رسالہ فی البحر والمياء الجبال) ، ثابت ابن قرة (بطلیموس کی کتاب جغرافیہ کا ترجمہ کیا ) ، این خراد به ) کتاب المسالک والمالک)، اصباح السلامی (کتاب اسماء جبال)، یعقوبی ( کتاب البلداں)، المروازی (فتوح البلداں)، ہمدانی ( کتاب البلدان 902 )، ابن رسطه ( العلاق النفیر (903 ء ، ابن فضلان (رساله)، ابو الفراج ( کتاب الخراج )، الجیهانی (عجائب البلداں، اس میں ہندوستان کے حالات ہیں)، ابو زید بلخی (کتاب اشکال، صورة الاقاليم، کتاب المسالك والممالک ( ابو الحق ابراہیم الاستخاری ( کتاب المسالک والممالک)، ابوالقاسم ابن حوقل ، المسعودی ( مروج الذهب)، الحائق ( كتاب جزيرة العرب)، المقدسی (احسن التقاسیم 985ء) ، البیرونی ( تحقیق ما فی الہند)، ناصر خسرو (سفرنامه 1045)، البكرى (كتاب المسالك والممالک) ، ابو بکر زہری ( تحفه الا باب ونخبت العجاب ، عجائب البلدان )، ابو محمد ابداری 1289ء ، ابن جبیر (رحله)، ابن سعید المغر بی 1274ء ( کتاب جغرافیہ فی اقالیم)، الا دریسی ) نزہت المشتاق ) ، الموصلی ( عیون الاخبار )، یا قوت حموی 1229ء ( معجم البلداں)، زکریا القزويني ( عجائب المخلوقات ) ، ابوالفداء ( تقویم البلداں)، حمد الله المستوفی (نزہت القلوب 1340 ء ) الدمشقی 1327 ء ( عجائب البر والبحر )، ابن بطوطہ ( رحاله)، عبد الرزاق ( مجمع البحرین)، احمد رازی (هفت اقلیم )، محمد عاشق 1598ء ( مناظر