مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 85
157 156 13 علم فلسفہ آٹھویں صدی میں مسلمان حکماء نے یونانی فلسفیوں کی کتابوں کے عربی میں تراجم کیے اور ان سے خوب اکتساب علم کیا۔یونانی فلسفہ اور نظریات جب اسلام میں داخل ہوئے تو الفارابی اور ابن سینا کے ذریعے انہوں نے قبولیت عام کی سند پائی۔ان دونوں وسیع النظر، آزاد خیالات (liberal) کے فلسفیوں کی کتابوں کے عربی سے لاطینی میں تراجم ہوئے اور یورپ کے عالموں نے ان سے بالاستعیاب اکتساب کیا۔مثلاً ابن سینا کی ان کتابوں نے یورپ میں دیر پا اثر چھوڑا: رسال: القضاء والقدر، اقسام الحكمة ، كتاب البر والاثم ، عیون الحکمۃ ، کتاب الاشارات۔فلسفہ کا شہر یار الکندی عربوں میں سب سے پہلا فلسفی تھا اس لئے اس کو فیلسوف الحرب بھی کہا جاتا ہے۔وہ ایک جامع النظر ریاضی داں بھی تھا۔اس کے عقیدے کے مطابق کوئی بھی شخص ریاضی کا علم حاصل کیے بغیر فلسفی یا طبیب نہیں بن سکتا۔اس نے فلسفے کی اصطلاحات سے عربی زبان کو آشنا کیا، جیسے اس نے اللہ تعالیٰ کے لیے واجب الوجود کی اصطلاح استعمال کی۔اقلیم ہم میں بھی ہیں یا ہم میں پیدا ہو سکتی ہیں۔یوں ایسی برائیاں ہمارے پیش نظر ہوں گی اور ہم ان کی اصلاح کر سکیں گے۔اس نے فلسفے پر ہیں شاہکار تصانیف قلم بند کیں جن میں سے کئی کتابوں کالا طینی میں ترجمہ مائیکل اسکاٹ نے کیا۔جیسے رسالہ فی ماہیتہ العقل۔ابو بکر محمد بن زکریا رازی (932ء) کے افکار، کیمیا، طب ،طبیعیات اور فلسفہ میں سند سمجھے جاتے ہیں۔یورپین عالم راجر بیکن (Roger Bacon) اپنی تصانیف میں بار بار اس کا ذکر کرتا ہے۔اس کی اکتالیس کتابیں فلسفے پر ہیں جیسے کتاب فی الذاة، كتاب ببيت العالم، كتاب في الحركة، كتاب الخلاء والملاء، كتاب في العلم الالنبي ، كتاب السر في الحملة، كتاب في ان للعالم خالقاً حكيماً - كتاب في السيرة الفاضلة وسيرة اهل المدينة موخر الذكر كکتاب کو 1935ء میں فرانسیسی ترجمے کے ساتھ پال کراؤس (Paul Kraus) نے اٹلی سے شائع کیا۔بطور فلسفی رازی نے اس کتاب میں اپنے اخلاق بیان کیے ہیں اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔فارسی میں اس کا ترجمہ آقا عباس ارشتیانی نے کیا ہے۔اس کے کئی فلسفیانہ خیالات و نظریات غیر اسلامی ہونے کے باعث با نظر استحسان نہیں دیکھے جاتے تھے۔ابونصر الفارابی (950-870ء، ترکستان ) تحصیل علم کے بعد چالیس سال تک بغداد میں رہا۔پھر سیف الدولہ کے دربار میں چلا گیا۔دربار میں جس وقت پہنچا تو اس وقت علما کسی مسئلے پر بحث کر رہے تھے ، پہلے تو وہ دہلیز پر خاموش بیٹھا رہا پھر بحث میں کود پڑا۔سیف الدولہ اس اجنبی کی نکتہ آفرینی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔چنانچہ جلد ہی وہ صاحبِ طرز ، اس نے تخلیق عالم کے مسئلے پر افلاطونی انداز میں نظر ڈالی۔روح کی ماہیت کو اس نے مستند اور ثقہ بند فلسفی تسلیم کیا جانے لگا۔علم منطق میں شارح ارسطو کی حیثیت سے اس نے جو سنہری نظریہ تنزلات کی روشنی میں حل کیا۔اس کے نزدیک مرد کامل (ideal man) وہ ہے جو جسمانی کارنامے انجام دیے ان کی وجہ سے شہرتِ دوام ملی۔اس کے تبحر علمی کے باعث اس کو معلم ثانی کا لذتیں ترک کرتا ہے اور اپنی زندگی غور وفکر میں گزارتا ہے۔ایسے انسان کو وہ مرد صالح یا مظہر لقب دیا گیا، معلم اول (ارسطو) کی رعایت سے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔وہ پہلا شخص ہے جس نے صفات الہیہ کہتا ہے۔اس نے اصلاح نفس کا درج ذیل طریقہ بیان کیا۔انسان کو اپنے دوست حکمیاتی اصولوں پر علوم کی طبقہ بندی کی جو آج تک مروج ہے۔اس کو منطق پر اتنا عبور حاصل تھا و احباب کو آئینہ بنانا چاہتے اور جو برائیاں ان میں نظر آئیں، ان کے بارے میں سمجھنا چاہئے کہ یہ کہ ابن سینا کے بقول اس نے منطق الفارابی کی کتاب مابعد الطبیعات سے سیکھی تھی۔اس نے