مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 105
197 196 مال بردار ہوتے تھے۔غراب جہاز کا نام یورپ میں کو روسیٹ (corvette) پڑ گیا اور شالندی کو شالیند (challand) کہا جانے لگا۔شو باک جہاز میں چپوؤں کے ہمراہ بادبان بھی ہوتے تھے۔جنگی جہازوں میں میزائل اور تیر انداز ہوتے تھے۔جہاز کے عملے میں ہر قوم کے لوگ ہوتے تھے مگر بحری جنگیں صرف مسلمان لڑتے تھے۔[60] جہاز سازی (ship building) کی صنعت اسلامی دنیا میں ایک وسیع صنعت تھی جہاں تجارتی جہازوں کے علاوہ جنگی جہاز بھی بنائے جاتے تھے۔مختلف بندرگاہوں پر ڈاک یارڈز (dock yards) ہوتے تھے جن کو دار الصنعۃ کہا جاتا تھا۔انگریزی کا لفظ آرسینل (arsenal) اسی سے ماخوذ ہے۔بڑے بڑے دریاؤں پر نجی ڈاک یارڈز بھی ہوتے تھے۔المقدسی نے اپنی کتاب دسویں صدی میں لکھی تھی اور اس میں اس نے بارہ قسم کے جہازوں کی تفصیل دی ہے۔بصرہ ، صراف اور عمان میں شپ یارڈ (ship yard) بنائے گئے تھے۔مصر میں اسکندریہ اور فسطاط میں شپ یارڈ تھے۔دریائے نیل پر روضہ کے مقام پر گورنر ابن طولون نے 884ء میں ایک سوجنگی جہاز بنوائے تھے۔اندلس میں اشبیلیہ،امیر یا اور ویلنسیا میں بحری ڈاک یارڈ تھے۔تیونس میں مہدیہ کے مقام پر 912ء میں نیا ڈاک یارڈ تعمیر کیا گیا تھا جس میں تمھیں بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہو سکتے تھے۔سلطان صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں مصر میں جہاز بنا کر ان کے حصوں کو اونٹوں پر لاد کر شام لایا جاتا تھا جہاں ان کو جوڑا جاتا تھا۔میکانیات احمد موسیٰ بن شاکر (858ء) نے میکانیات پر اپنی منفر د تصنیف کتاب الخیل میں ایک سو تین متحرک اور میکینکل مشینوں کا ذکر کیا ہے۔اس کتاب کو احمد الحسن نے 1981ء میں شائع کیا جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ ڈانلڈبل (Donald Hill) نے 1979ء میں کیا۔اس کتاب کو ابن خلکان نے بچشم خود دیکھا تھا۔خلیفہ متوکل باللہ کو چونکہ آلات متحرکہ کا بہت شوق تھا اس لئے اس فن کی بدولت احمد موسیٰ کو اس کے دربار میں رسوخ حاصل تھا۔اہلِ اسلام میں اس فن پر یہ پہلی کتاب تھی۔مؤرخین کا خیال ہے کہ ہارون الرشید نے جو واٹر کلاک فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو بطور تحفہ ہاتھی کے علاوہ بھیجا تھا وہ اسی میکینکل انجنیئر کا بنایا ہوا تھا۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی نے یورپ میں ہاتھی دیکھا تھا۔اس کی کتاب میں آلات کے لئے جو حصے(component) دیے گئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: bent-tube siphons, conical valves, concealed air-holes, balances, pulleys, gears, floats and cranks۔گھڑیاں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔نمازوں کے اوقات کے تعین کے لئے گھڑیوں کی موجودگی ضروری تھی۔اس لئے ان کی ایجاد کی طرف مسلمانوں نے خاص توجہ دی۔بغداد کے خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو بطور تحفہ جو گھڑی بھجوائی تھی، یورپ میں اس گھڑی کو دیکھ کر لوگ مجسمہ حیرت بن گئے تھے۔بغداد کی مستنصر یہ یو نیورسٹی کے سامنے ایک گھڑیال بنایا گیا تھا جس کا ڈائل (dial) نیلے رنگ کا تھا اس میں سورج کی گردش کو دکھایا گیا تھا جس سے وقت کا پتہ چل جاتا تھا۔مصر کے فاطمی حکمراں الحاکم بامر اللہ کے دور حکومت کے سائنس داں ابن یونس نے پنڈولم ایجاد کیا تھا۔گیا رہویں صدی میں اسلامی اسپین کے انجینئر المرادی نے گھڑیوں پر ایک کتاب میں 18 واٹر کلاک کی تفصیل پیش کی تھی جو اس نے اندلس میں بنائی تھیں۔اس نے ایک واٹر کلاک ایسی بنائی تھی جس میں گیئر (gear) اور بیلنسنگ (balancing) کے لیے پارے (mercury) کو استعمال کیا گیا تھا۔کتاب میں اس نے قوت کے ایک جگہ سے