مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 104
195 194 وادی الکبیر کا نظارہ کیا تھا۔ابن حوقل نے عراق میں سانجا کے مقام پر 112 فٹ لمبے پل کا ذکر کیا ہے۔الا صحری نے ایران میں دریائے شب پر اس پل کا ذکر کیا ہے جو اموی گورنر الحجاج (674ء) کے طبیب کا بنایا ہوا تھا۔القزوینی نے اپنی کتاب آثار البلاد مصنفہ 1276ء میں خوزستان میں از ہاج کے مقام پر ساسانی پل کے بارے میں لکھا ہے جس میں صرف ایک محراب تھی۔المقدسی نے دمشق میں پانی کے ایک خوبصورت فوارے کا حوالہ دیا ہے۔دوسال بعد ابنِ جبیر نے ایسے ہی ایک فوارے کا تذکرہ کیا ہے جس میں پانی اوپر کی طرف جا تا تھا جیسے درخت کی شاخیں۔اس نے جیرون گیٹ کے باہر تعمیر ہونے والے گھڑیال کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے جو بارہویں صدی میں تعمیر ہوتے ہوئے اس نے خود دیکھا تھا۔پٹرول اسلامی ممالک میں پیٹرولیم (petroleum) اور اس کی صفائی (refining) کی صنعت ان کی اقتصادی خوش حالی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔خام پیٹرولیم (crude petroleum ) کے لیے قدیم کتابوں میں نفط کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔رازی نے کتاب سرالاسرار میں اس کے کشید کرنے کی ترکیب درج کی ہے۔اس نے خود کیمیائی تجربات کے دوران آلات کو گرم کرنے کے لئے روغن نفطہ استعمال کیا تھا۔باکو ( آذربائجان ) کا شہر تیل کے لئے مشہور تھا جہاں سے تیل سے بھرے جہاز دوسرے ملکوں کو روانہ ہوتے تھے۔خلیفہ المعتمد نے 885ء میں دار بند کے شہریوں کو تیل سے ہونے والی آمد کو خرچ کرنے کی اجازت دی تھی۔المسعودی نے یہاں کی آئل فیلڈ (oil field) کو 915ء میں دیکھا تھا۔مشہور سیاح مارکو پولو (Marcopolo) بھی یہاں آیا تھا۔عراق میں خام تیل کی پیداوار ہوتی تھی۔علم الادویہ کے مشہور مصنف داؤد انطاکی نے لکھا ہے کہ یہ تیل سیاہ رنگ کا ہوتا تھا۔سینا کے صحرا اور خوزستان ( ایران ) میں بھی تیل نکالا جاتا تھا۔پیٹرولیم جنگ اور ایندھن میں استعمال ہونے کے علاوہ دوائیں بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔شپ بلڈنگ حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں مصر کی فتح کے بعد بحیرہ روم میں مسلمانوں نے قبرص پر 649 ء میں اور رھوڈز کے جزائر (Rhodes Islands) پر 672ء میں قبضہ کر لیا تھا۔شمالی افریقہ اور اسپین پر قبضے کے بعد بحیرہ روم مکمل طور پر مسلمانوں کے زیر تسلط آ گیا۔سلی پر قبضہ 827ء میں ہوا ، اٹلی اور فرانس کے ساحلوں پر بحری حملے کیے گئے۔بحری جہاز مصر اور شام میں بنائے جاتے تھے۔بحری جہاز کے لئے سفینہ یا مر گب کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔جہاز کے کپتان کو الرئیس کہتے تھے۔اور جنگی بیڑے کے کپتان کو امیر البحر (admiral) کہا جا تا تھا۔پائلٹ یا جہاز راں (navigator) کو معلم کہا جاتا تھا۔درج ذیل فارسی اصطلاحات عربی میں مستعمل تھیں : با لنج ( cabin) ، بندر (port)، دفتر ( sailing instructions)، قریب، دورق ، دو پنج ship's boat)، دید بان (look out boy) ناخدا (shipmaster)، رہ نما سے رحمانی _(type of sailing ship)(book of nautical instructions) مشہور جہازراں ابنِ ماجد نے رحمانی تیار کی تھی۔وقال (mast)، اناجپر (anchor)، الربان (captain)، البنانیه (Sailors)، دو پیچ ( dinghy)، القريب (life boat)، مطیال (canoe) جہاز کئی قسم کے ہوتے تھے ، ایک قسم کا جہاز جسے شینی (shini) کہتے تھے۔اس میں 143 چپو ہوتے تھے۔972ء میں مصر کے فاطمی خلیفہ نے مقس کی بندرگاہ پر 600 بحری جہاز بنوائے تھے۔ایک اور قسم کا جہاز بوطا سہ (buttasa) کہلاتا تھا جس میں چالیس بادبان ہوتے تھے ، ان میں عملہ سمیت 1500 لوگ سفر کر سکتے تھے۔غراب قسم کے بحری جہاز اور شمالندی جہاز