مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 106 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 106

199 198 دوسری جگہ تبادلے کے لیے گیئرز کا ذکر کیا ہے۔یورپ میں اس امر کا ذکر 1365ء میں اٹلی کے جیووانی (Giovanni) نے کیا تھا۔ابن یونس نے پانچ بڑی خود کار مشینوں (automatic machines) کا ذکر کیا ہے۔اس نے گھڑی کے ساتھ اس کی صنعت پر بھی ایک رسالہ لکھا تھا جس کا اصل نسخہ ابھی تک خستہ حالت میں موجود ہے اس میں ملٹی پل گیئر ٹرینز (multiple gear-trains) کی وضاحت ڈائیگرام کے ذریعے کی گئی ہے۔جرمنی میں گھڑیاں 1525 ء اور انگلینڈ میں 1580ء میں بننا شروع ہوئی تھیں۔اسلامی اسپین کے ہئیت داں الزرقلی نے دریائے لے گز (Tagus) کے کنارے پر 1050ء میں طلیطلہ میں واٹر کلاک بنایا تھا۔یہ گھڑی نہ صرف دن اور رات کا وقت گھنٹوں میں بتلاتی تھی بلکہ چاند کی منازل بھی بتلاتی تھی۔یہ گھڑی ایک عمارت کے اندر دو تالابوں پر مشتمل تھی جن میں پانی زمین دوز آبی ذخیرے سے آتا تھا۔جب نیا چاند طلوع ہوتا تو یہ تالاب بھرنا شروع ہو جاتے اور جب چاند گھٹنا شروع ہوتا تو یہ خالی ہونا شروع ہو جاتے یہاں تک کہ چاند کی 29 ویں تاریخ کو دونوں بالکل خالی ہو جاتے۔اس واٹر کلاک میں کوئی ایسا آٹو میٹک میکانزم (automatic compensating mechanism) تھا جس کی وجہ سے اگر ایک تالاب میں پانی دوسرے سے لایا جاتا تو پہلا خود بخود اپنے لیول پر آجاتا تھا۔جب عیسائیوں نے 1085ء میں اس شہر پر قبضہ کیا تو یہ گھڑی کام کر رہی تھی۔بلکہ یہ 1133 ء تک وقت دیتی رہی۔کہا جاتا ہے کہ بادشاہ الفانسو دہم نے اپنے کا ریگروں سے کہا کہ پتہ کرو یہ کیسے کام کرتی تھی۔اس کے کاریگروں نے اس کو کھول تو لیا مگر پھر اسے ٹھیک طریقے سے بند نہ کر سکے۔محمد ابن علی خراسانی (1185ء) دیوار گھڑی بنانے کا بہت بڑا ماہر تھا۔اس کا لقب الساعتی تھا۔اس نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔باب جبرون کو باب الساعة بھی کہا جاتا تھا۔اس کے بیٹے رضوان ابن الساعتی ( واچ میکر) نے اس گھڑی کی بناوٹ کو اور زیادہ بہتر بنایا اور اس کی مرمت کی۔اس گھڑی کی بناوٹ اور استعمال پر اس نے 1203ء میں ایک رسالہ لکھا جسے جدید دور میں آپریٹنگ مینوئل (operating manual) کہا جاتا ہے، گھڑی سازی پر یہ ایک بہترین تصنیف تھی۔نون +6 رضوان الساعتی کی بنائی ہوئی واٹر کلاک ال 10 12 بدیع الزماں الجزاری جو سب سے بڑا مسلمان میکینکل انجینئر تھا۔اس کی کتاب الجامع بين العلم و العمل فی صنعت الحیل 1206ء میں دیار بکر سے منظر عام پر آئی تھی۔ڈانلڈ بل (DonaldHill) نے 1974ء میں انگریزی میں اس کا ترجمہ دی بک آف نالج آف انجینٹس میکینکل ڈیوائسز (The Book of Knowledge of Ingenious Mechanical Devices) کے نام سے کیا۔کتاب کا قلمی نسخہ آکسفورڈ کی بوڈ لین لائبریری میں محفوظ ہے۔کتاب میں جن مشینوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ ہیں: واٹر کلاک، کینڈل کلاک، آٹو میٹک مشین، فا ون ٹین، واثر ریزنگ مشین وغیرہ۔ان میں سے بہت سی مشینیں ایسی ہیں جو بدیع الزماں نے خود بنائی تھیں۔مشینوں کی ساخت اور صنعت پر 173 ڈائیگرام اس شکل میں پیش کیے ہیں کہ آنے والا انسان ان کو بآسانی بنا سکتا ہے۔چنانچہ سائنس میوزیم لندن میں ورلڈ آف اسلام فیسٹیول