حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ

by Other Authors

Page 4 of 18

حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 4

اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ 4 الله حضرت خدیجہ کے انتقال سے آنحضرت عمل نہایت پریشان و نمکین تھے۔یہ حالت دیکھ کر آپ اللہ کے ایک صحابی حضرت عثمان بن مطعون کی بیوی خولہ نے آنحضور ﷺ سے عرض کی آپ شادی کیوں نہیں صلى الله کر لیتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کس سے کروں؟ اس نے عرض کیا کہ آپ چاہیں تو غیر شادی شدہ لڑکی بھی موجود ہے اور بیوہ عورت صلى الله بھی۔آپ ﷺ نے فرمایا کون " خولہ نے عرض کیا۔ایک تو آپ ملنے کے عزیز دوست ابو بکر صدیق کی لڑکی عائشہ ہے اور دوسری سودہ بنت زمعہ ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اچھا تو پھر دونوں کے متعلق بات کرو۔(8) حضرت خولہ نے جب حضرت سودہ سے حضور علی سے شادی کے متعلق ذکر کیا تو آپ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔آپ فرمانے لگیں:۔” میرا یہ نصیب! مجھے اور کیا چاہیے لیکن پہلے میرے والد سے بات کرلو۔“ وہ حضرت سودہ کے والد کے پاس گئیں اور نکاح کا پیغام سنایا۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں بہت مناسب رشتہ ہے۔اپنی سہیلی سے پوچھ لو۔حضرت خولہ نے کہا ” میں نے پوچھ لیا۔والد محترم نے کہا ٹھیک ہے !بیٹی راضی ہے تو میں بہت خوش ہوں۔‘ غرض سب 66