حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 8
اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ 8 حضرت سودہ سے پانچ احادیث مروی ہیں۔اطاعت وفرمانبرداری میں حضرت سودہ تمام ازواج مطہرات سے ممتاز تھیں۔آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر ازواج مطہرات کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا چنانچہ حضرت سودہ نے اس حکم پر اس سختی سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لئے بھی نہ نکلیں۔اور مدینہ میں ہی رہیں۔رسول اللہ اللہ کے دنیائے فانی سے کوچ کر جانے کے بعد حضرت سودہ نے سفر پر جانا ترک کر دیا۔(11) آپ فر مایا کرتی تھیں۔” میں نے حج بھی کر لیا ہے اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر لی ہے۔اب میں اپنے گھر میں ہی رہوں گی جیسا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔(12) آپ بہت تھی ، خوش اخلاق اور خوش مزاج تھیں۔آپ حضرت عائشہ صدیقہ کے بعد سخاوت اور فیاضی میں سب سے بڑھ کر تھیں۔ایک دفعہ حضرت عمر نے ان کی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی ، لانے والے سے پوچھا، اُس میں کیا ہے؟ وہ بولا درہم۔آپ نے فرمایا :۔کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں۔" یہ کہہ کر اسی وقت سب کو تقسیم کر دیا۔66 حضرت سودہ ہاتھ سے محنت کرنے والی اور قربانی کرنے والی