حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ

by Other Authors

Page 9 of 18

حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 9

اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ خاتون تھیں۔طائف کے رہنے والے اپنے جانوروں کی کھالیں ذبح کرنے کے بعد سکھا کر آپ کو بھیج دیتے تھے۔ان کو سیدھا کر کے اور کچھ مصالحہ وغیرہ لگا کر اس طرح بنا دیتی تھیں کہ پھر وہ لوگ اس چھڑے سے مختلف چیزیں بنا سکتے تھے اس محنت سے جو آمدنی ہوتی تھی آپ اس کو خدا کی راہ میں خرچ کر دیتیں اور اپنی ضرورت سے زیادہ کوئی چیز اپنے پاس نہ رکھتیں۔حضرت سود کا بہت زیرک اور بہت سمجھدار تھیں ایک دن آپ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ جس روز آپ ﷺ میرے ہاں رہنے آتے ہیں وہ دن میں حضرت عائشہ کے لئے چھوڑتی ہوں آپ ﷺ میری باری کا دن حضرت عائشہ کے گھر گزاریں پیارے صلى الله آقا ع نے ان کی یہ درخواست منظور کر لی۔(13) حضرت سودہ کا بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عائشہ عمر کے اس دور میں ہیں جب حافظہ اچھا ہوتا ہے اور انسان سیکھ رہا ہوتا ہے حضرت سودہ کا خیال تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی زیر تربیت زیادہ عرصہ گزاریں گی تو زیادہ علم سیکھ لیں گی۔جو امت کے کام آئے گا اس طرح اپنی ذات پر امت کے فائدے کو تر جیح دی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں حضرت سودہ کے علاوہ کسی عورت کو