چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 231
231 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (لقمان: 35) یقیناً اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے۔66 صلى الله (بخاری کتاب الایمان باب سُؤالِ جِبْرِيلَ النَّبِيِّ عَنِ الإِيمَان وَالإِسْلَامِ وَالْإِحْسَانِ وَعِلْمِ السَّاعَةِ) رسول الله کی بیان فرمودہ اس پیشگوئی کے مطابق قیامت کبری کی امارات کا سلسلہ جو آپ ﷺ کے ظہور سے شروع ہوا۔قرون وسطی میں بھی آگے بڑھا اور لونڈی کے آقا کو جنم دینے کی یہ علامت 1206ء مطابق 602ھ میں اس وقت پوری ہوئی جب ہندوستان میں باقاعدہ ایک خاندان غلاماں کی حکومت کا آغاز ہوا جو 1290 ء تک قائم رہی۔قرب قیامت کی دوسری علامت اونٹوں کے چرواہوں کے بلند و بالا عمارتوں میں مقابلہ کا سلسلہ ہمارے زمانہ میں چودھویں صدی سے سعودی عرب اور عرب ریاستوں میں تیل کی دریافت کے بعد سے تا حال جاری ہے۔حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا:۔قرب قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت غالب آجائے گی اور زنا پھیلے گا اور شراب پی جائے گی اور عورتوں کی کثرت ہوگی اور مرد کم ہوں گے۔یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگران ہو گا۔“ ( ترمذی ابواب النفقن باب ما جاء فی اشراط الساعة ) حضرت علیؓ اور حضرت ابو ہریرہ کی روایات میں امت کے پندرہ ایسے بد خصائل کا ذکر ہے کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو اس زمانہ کے لوگوں پر آزمائش آئے گی۔یعنی وقت کے امام کا ایمان یا انکار اور اس کے نتیجہ میں نازل ہونے والی بلاء۔آپ نے فرمایا کہ:۔1۔جب مال غنیمت کو دولت کا ذریعہ بنایا جائے گا2۔اور امانت کو مال غنیمت سمجھا جائے گا3۔اور زکوۃ کو چٹی 4۔اور مر دعورت کی اطاعت کرے گا اور اپنی ماں سے بدسلوکی 5۔اور دوستوں سے حسن سلوک اور والد سے زیادتی 6۔اور مساجد میں آوازیں ( شور ) بلند ہو گا 7۔اور کمینے لوگ قوم کے سردار ہونگے 8۔اور ایک آدمی