چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 232
ہے کہ:۔232 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی کی عزت اس کے شر سے بچنے کے لیے ہوگی 9۔اور شراب پی جائے گی 10۔اور ریشم پہنا جائے گا 11 اور گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں گے 12۔اور لعنت کریں گے امت کے آخری لوگ پہلوں کو 13۔تو اس وقت انتظار کرنا سرخ ہوا کا 14۔اور حسف یعنی گرہن کا 15۔اور مسخ یعنی زلازل کا۔(ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فى علامة حلول المسخ والخسف ) حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں احوال زمانہ کی مذکورہ بالا نشانیوں کے ساتھ مزید یہ بھی ذکر اس وقت نشانات پے در پے ظاہر ہوں گے جیسے موتیوں کی لڑی کا پرانا دھا گہ ٹوٹ گیا اور دانے گرنے لگے۔ایسا ہی تیزی سے آثار و علامات قیامت کا ظہور ہوگا۔“ (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فى علامة حلول المسخ والخسف) ان تمام نشانات کو رسول کریم ﷺ نے شروعات قیامت یا اس کے قرب کی علامات قرار دیا۔چنانچہ حضرت حذیفہ بن اسید بیان کرتے ہیں کہ:۔صلى الله ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے تو رسول اللہ علیہ تشریف لائے اور آپ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے دس نشان ظاہر نہ ہوں پھر آپ نے دخان ، دجال، مغرب سے سورج کے طلوع ہونے اور عیسی بن مریم کے ظہور ، یا جوج ماجوج کی آمد اور تین قسم کے خسوف یعنی زلازل مشرق ، مغرب اور جزيرة العرب میں اور دسویں ایک آگ کا ذکر کیا جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان 66 کے حشر کی جگہ کی طرف ہانکے گی۔‘“ ( مسلم كتاب الفتن باب في الآيات التي تكون قبل الساعة)