چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 230
230 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی احادیث میں علامات زمانہ مہدی شیخ علی اصغر بروجردی ( متوفی : 1934 ء) نے آیت قرآنی فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ( محمد : 19) کی تفسیر میں علامات مہدی بیان کی ہیں۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:۔” پس کیا وہ محض ساعت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے پاس آجائے پس اس کی علامات تو آچکی ہیں۔“ اس آیت کی تفسیر میں وہ یہ روایت لائے ہیں:۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا (محمد 19 ) کی تفسیر میں اپنے صحابہ کرام سے ذکر فرمایا کہ قیامت کی جو علامات میں تمہیں بتا تا ہوں ممکن ہے کہ اس سے مراد قیامت صغریٰ یعنی امام مہدی کے ظہور اور اس کے بعد کا زمانہ ہو چنانچہ بعض ائمہ اہل بیت کی روایات میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ” قیامت اور ساعت“ کے بارے میں جو علامات بیان فرمائی ہیں اس سے مرا قیامت صغریٰ ہے جو آل محمد یعنی حضرت امام مہدی کی تشریف آوری یعنی اس کا زمانہ ظہور اور اس کی ابتداء کے حالات ہیں۔اس پر حضرت سلمان فارسی نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ علامات بیان فرمائیے تو حضور نے فرمایا کہ اس زمانہ کی علامت نماز کو ضائع کرنا شہوات کی پیروی ، مال کی زیادہ تعظیم اور دین کو دنیا کے عوض بیچ ڈالنا ہوں گی۔“ (نورالانوار صفحہ 13 مطبوعہ 1328ھ ترجمه از فارسی) اس روایت میں بیان کردہ علامات کی تائید دیگر متعد دروایات حدیث سے بھی ہوتی ہے چنانچہ حضرت جبرائیل نے رسول کریم ﷺ کو الساعۃ کی یہ اشراط یعنی علامات بھی بتا ئیں:۔اول یہ کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے ، دوسرے جب سیاہ اونٹوں کے پچرانے والے بڑی بڑی بلند عمارتیں بنانے لگیں۔وہ قیامت کبری ان پانچ باتوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پھر جبرائیل نے یہ آیت پڑھی: إِنَّ اللَّهَ