چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 11
11 تعارف بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم تعارف از حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ 1979 ء تاجون 1982ء) آنحضور ﷺ کی ہجرت سے لے کر آج تک تیرہ صدیاں گزرگئیں اور چودھویں بھی ختم ہونے کو ہے صرف چند سانس باقی ہیں جو اس مضمون کے شائع ہوتے ہوتے رک چکے ہوں گے۔یہ ایک عجیب صدی ہے۔اس جیسی کوئی اور صدی دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔صرف اسلامی تاریخ ہی میں نہیں کسی بھی مذہبی تاریخ میں کسی صدی کے ایسے چرچے اور تذکرے نہیں ملتے جیسے اس صدی کے تذکرے عالم اسلام میں ملتے ہیں۔آخر کیوں ایسا ہے؟ اس کی اہمیت کا راز کس بات میں ہے اور کیوں نہ صرف یہ صدی بلکہ صدی کا سر غیر معمولی شہرت پکڑ گیا۔اس صدی کے آغاز پر وہ غیر معمولی واقعہ کیا ہونا تھا جس نے اس صدی کو اتنی شہرت دی۔ایک اور عجیب بات اس صدی کے متعلق یہ نظر آتی ہے کہ دنیا میں کبھی کسی صدی کو کسی مذہب کے پیروکاران نے اس اہتمام سے رخصت نہیں کیا اور اس کے اختتام کا ایسا چر چانہیں کیا جیسا چودھویں صدی کے متعلق آج عالم اسلام نے کیا ہے۔آخر کیوں تمام مسلمان سر براہانِ مملکت اور دیگر احباب اختیار کے دل میں یہ بات گڑ گئی کہ یہ صدی اس لائق نہیں کہ اسے بغیر خاص اعزاز اور اہتمام کے رخصت کیا جائے بلکہ یہ ایسی شان رکھتی ہے کہ تمام دنیا کی مسلمان حکومتوں کی طرف سے الوداعی تقریبات کے انتظام کی خاطر ایک مشتر کہ مجلس انتظامیہ تشکیل دی جائے۔ان دو امور کی روشنی میں تمام عالم اسلام میں اہلِ فکر و نظر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ جستجو کریں کہ آخر اس صدی میں کیا بات ہے اور جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے تو وہ پہلے سے بھی بڑھ کر شدت اور کرب سے اس امام کا انتظار کر رہے ہیں جس کے متعلق علماء یہ کہا کرتے تھے کہ لازماً چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اور امت مسلمہ کو ہر مصیبت سے نجات بخشے گا اور ہر کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔