چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 12
12 تعارف سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب شور اور یہ سارا اہتمام کیا محض اتفاقی حادثات ہیں یا واقعتاً اسلام کے مستقبل اور اس کی نئی زندگی اور اس کے عالمگیر غلبہ سے اس صدی کا کوئی تعلق تھا۔اگر چہ عوام کیلئے یہ کافی ہے کہ علماء ان کو بتاتے رہے کہ لازماً اس صدی کے آغاز پر ہی موعود امام نے آنا ہے مگر اہلِ علم مزید جستجو چاہتے ہیں۔اس ضمن میں بعض بنیادی اور اصولی چیز میں ضرور پیش نظر رکھنی چاہئیں۔مثلاً یہ کہ اگر اتنا اہم واقعہ کسی زمانہ میں ہونے والا تھا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے نہ صرف موجودہ صدی کے علماء اور حکمرانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں بلکہ گذشتہ صدیوں کے علماء بھی اس کا ذکر کرتے چلے آئیں۔تو کیا قرآن کریم میں بھی اس کا واضح ذکر اور اشارہ موجود ہے اور کیا احادیث نبویہ میں بھی چودھویں صدی کا تذکرہ ملتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ امت محمدیہ میں ہونے والے عظیم الشان واقعات کے متعلق ہم یہ باور نہیں کر سکتے کہ قرآن و حدیث تو ان کے بارہ میں خاموش رہیں اور محض بعد میں آنے والے علماء کو اللہ تعالیٰ اس سے مطلع فرما دے۔لیکن قرآن وحدیث پر غور ہو تو اس بنیادی امر کوضرور پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ضروری نہیں کہ چودھویں صدی کا لفظ قرآن وحدیث سے تلاش کیا جائے۔ایک متقی اور حقیقت پسند تحقیق کرنے والے کا یہ کام ہے کہ یہ دیکھے کہ کیا کوئی ایسا مضمون قرآن و حدیث میں بیان تو نہیں ہوا جو نمایاں طور پر اس صدی کی طرف انگلی اُٹھا رہا ہو۔اگر ایسے واضح اشارے مل جائیں تو پھر علماء امت کی پیشگوئیوں کو ایک بہت بڑی تقویت حاصل ہو جائے گی اور محض سرسری طور پر ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس طرح یہ بات بھی بجھنی آسان ہو جاتی ہے کہ آخر کیوں غیر معمولی الہی تقدیر کے ماتحت تاریخ انسانیت میں پہلی بار ایک صدی کو ایسے اہتمام سے رخصت کیا جارہا ہے۔جب ہم قرآنِ کریم پر غور کرتے ہیں تو یہ عجیب حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضرت محمد مصطفی عالی کو موسوی سلسلہ کے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمايا:إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِداً عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً ( المزّمّل : 15) اور دوسری طرف امت محمدیہ میں ویسی ہی خلافت جاری ہونے کا وعدہ کیا گیا ہے جیسا کہ حضور ا کرم علی