چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 106
از 106 چاند وسورج گرہن پڑھا کرتے تھے اور اس سے یہ مطلب نکالتے تھے کہ 1311ھ میں حضور علیہ السلام ظاہر ہو کر تمام ملک پر شیعہ مذہب کی تائید فرما ئینگے۔وہ بیت یہ ہے:۔در سن ” غاشی" ( 1 1 3 1 ه ) ہجری دو قران خواهد بود یئے مہدی و دیبال نشان خواهد بود اور نیز یہ کہتے تھے کہ یہ بہیت پچاس ساٹھ برس سے حضرت شیخ محمد عبد العزیز پر ہاڑوی ملتانی نے جو ولی کامل گزرے ہیں از روئے الہام ربانی فرمایا تھا۔۔۔1311ھ میں معلوم ہوا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے مہدویت کا دعوی کیا ہوا ہے اور اس بیت کے مصداق وہ ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اسی 1311ھ میں ایک حدیث شریف کی رو سے ماہ رمضان میں کسوف و خسوف کا ہونا مراد تھا جو واقع ہو گیا۔۔۔میں مرزا صاحب قادیانی کا مرید نہیں اور نہ اب تک بیعت کی ہے۔۔۔یہ شہادت امام الزماں مہدی دوراں کے حق میں لاثانی اور بے نظیر شہادت ہے۔اس کو ایک دفعہ پھر بھی زور وشور سے مشتہر کرنا ضروری ہے تاکہ قیامت کا وبال گردن پر نہ رہے۔۔ولا تكتمو الشهادة وما علينا الا البلاغ۔۔۔۔۔۔یہ شہادت ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے زمانہ میں امام الزماں اور اپنی صدی کا مجدد ہوگزرا ہے۔اس کے نام سے ایک عالم آگاہ ہے اور حسن اتفاق یہ ہے کہ اسی بزرگ نے اپنی کتاب عقائد نبراس میں ایک قول بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں۔راقم احمد خان ولد عبد الخالق خاں 66 خاکوانی ملتانی حاضر الوقت بمقام بھیرہ ضلع شاہ پور 4 رمضان المبارک 1324ھ۔“ ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 30: اخبار بدر 14 مارچ 1907 صفحہ 8 نوٹ: یہ شہادت اخبار بدر 14 مارچ 1907ء میں شائع ہوئی جسکی آج تک کسی نے تردید نہیں کی۔