چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 107
107 چاند وسورج گرہن عکس حوالہ نمبر :30 مایش بیت کا مطلب اب کھل گیا کہ دو تیران کے لفظ سے کورس کی الگ بات ہے مگر خدائی تائید و میں نیزہ ہے مین مرزاف ان گیری اینگوی مهدی مد و یتیمان کسون خسوفت مراد تا جر حاضر او قت علی پرپر امان مل جاعت کا بیان ہیں مگر اس کی امی کا نام ایک امامت کا کام ترین باسم الرحمن الرحیم با نمره ونتی ملا رسول الكريم آنان در خیالی بعدی جوشیده صاحبان اپنے خیال مین باندی می یقین اور کامل یقین سے کہتا ہوں کہ حاضر ہدایت مری کی بوری حضرت محمد صادق اور میرا یار باید ایدہ الہ تائید ہوئے تھے کہیں سے ظاہر نہ ہوا بلکہ یہ بہیت ہو حدیث میں ہم ہزار کوشش اور ہزار جانتا ہی کرین خدا تعالی ان کی تائید السلام علیکم در همه دید وبر کاتره میرے پاس اور رمضان شریف کسوف خسرت والی کے اسی قدیمی پر صادق آیا مین ہ ہم یہ بھی نہ رشکین سکے اورنہ کر سکے۔چشتیوں کے گذشته کی آپ طاقت بڑھی ہے جو آپکے یہ چدین درج کرنے کے اب اس کے وقوع کو تیرہ چودہ سال گزر چکے ہیں کیوئی - ایک پیشور نے حضرت مرزا صاحب کی تصدیق کی ہے جو انسان نے مجھے راتم تصدیق نے دی اور تاکیدا مر گیا اور کار معمول بات تھی جبکہ ساری دنیا کے شیعہ کو لا یر ا نے کے علاتی می شهر یزد گالی اور تھے اور ہزاروی چینی نقشبندیان دین گرین باعث عدیم الفرصتی در خود اپنی طویل باری کے والی اور حاضر الوقت مدعی کے منہ ملکی موریہ کون کرے مرزا صاحب کے دشمن ہیں مگر کچھہ ہی نہیں کر سکے۔گوردی صاحب آپ کی خدمت مین نہ بھیج سکا۔ایسار سال خدمت سے السلام سے لڑ کانی تصدیق ہوچکی ہے۔نے جیسے عداوت کا بڑا انشا باب سے مرزا صاحب کی یاد محمد حسین طبیب احمد آبادی از بمیره مین پر چیتا مون که سلامه به مین کون هندی ظاهر گرم بازاری ہوئی۔خدا مہر ایک کو ہدایت کرتی۔آمین ہوا کسی نئے دیور نے کیا ہوا اتنا کس سکے حق میں یہ دونر مین رمضان را در بین استان سے بحیرہ مین بخاریست حضرت امام الزمان کی نسبت آسمانی نشان ظاہر ہوئے حدیث میں تو کوئی نہ بتایا حضرت معظم طبیب اول مراسم ناموری محمدحسین صاحب مهربانی ہوا نہ تمہاری بیت المام بائی کی تصدین نخل به نظر ایک شفاخانہ حاضر مو ایران اخبار ہنر کے دیکھنے ا هم از نظر رنگونی ی سی ال صادق کی اب کوئی شخص صحیح العقل انکار کر سکتا ہے کا موقہ مور اور خیال آیاکہ مجھے یہ شہادت معلوم ہے جس کا ظاہر بوبیت سال ها شیری سے پہلے کے مشہور چلا آتا تھار کرنے والا ایسا شخص بین ایران اگر اس کو راتوری جماعت کو لوگوں مین انسان کا رہنے والا احمد خان نام افغان خاکوانی پیر حاضر الوقت مدعی کے حق میں صادق نہیں آیا۔نے ایک خفیف شہادت سمجھا ہوا ہے حالانکہ یہ شہادت عبد الخالق نعمان مرحوم ملفا خداوند کریم کی تم کر کے یہ مین مرزا صاحب قاراپنی کامیہ نین اور نہ ان یک امر از ان معدی در ان کے حق مین ایرانی اور بے نیت بادت ستعادت لکھتا ہوں کہ من منشعلہ ورہ سے بھی پہلے بیعت کی ہے مگر شر یہ لوگ جہان کے دشمن ہیں اور لائن ہے اس کو نیک اور پھر بھی زور شور سے مشترکہ نا ضروری ہے شید صاحبان ساکنان ملتان سے سنا کرتا تھا جس کو شیعہ کا نام سن کر جیل جاتے میں مجھے ضرور مرزائی یقین تاکہ قیامت کا بیان گردن پر نه ترور ولا تنمو الشهادة صاحبان بر شد وقہ سے اپنے امام علیہ السلام کریں گے۔بین ساری دنیا کے بیشون کو انکار کر کہتا دما علينا الا البلاغ - بریولان باغ باشد دیس مہدی بندر عود کے ظاہر ہونے کی تصدیق میں پڑہا کہتے ہوں کہ اس تدریج سے دشمنی کی بار سیب مین جایز ہے مراقم - احمد خان ولد عبد الخالق خان افغان خاکوانی مستانی مطلب نکالتے تھے کہ ان میں کیا آپ کو مزانین کیا خداوند تعالی کی جناب مین حاضر عاضر الوقت بعام چیره ضلع شاه ابور حضور علیہ السلام کا ہر مر کر شام ملک پر شیعہ مذہب کی نہیں ہونا۔تائید فرامین کے وہ میت یہ ہے۔اب اگر کوئی شخص اس طرح بہتان کی نجاست کھانے - رمضان المببرک له و من درین فاشی هیجری و قرآن خواهد بود گے کہ یہ بہت کسی نے اب بنا لیا ہے تو ہم اس کے مونہ ملا یہ شہادت ایک ایسے شخص کی سہے جوانی زمانہ میں ام الدنا السمارة پر لعنت کا جوتا مارنے کو مستعد ہیں۔نشر امام بخش اور اپنی صدی کا مجعدہ ہو گزر اس سے اس کے نام شریعت سے از پے مندی و جال نشان خواهد بود صاحب سواری امام الدین صاحب شاینی ونشی قادر بخش آی علم کا ہو اور من تفاق یہ ہے کہ اس بزرگ نے اپنی کتاب نوں نیز کہتے تھے کہ یہ بہت سچاس ساتھ برس سے صاحب وغیرہ پیش آستین راست اس بیری کے ذاکه زنده موجود شرح مقاما نیر اس میں ایک قول بھی کہا ہے کہ حضرت حضرت شیخ محمدعبد العزیز پر ماروی ملتانی رحمہ اعلی ہیں، اسی طرح بے شمار لوگ شیعہ وسنی اس بہت کے جیسے علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔منہ سے پیر ولی کامل گذرتے میں الہ یہ دوئے الامام ربانی فریایا جانے والے اب بھی ہیں۔ان منکر ہو جاویں تو یہ الگ۔أجرت اشتہارات محارم مشهور چلا آتا ہے جوں جوں نہ وہ قریب آتا بات ہے۔اس پیشین گوئی کو جو العام ربانی سے حضرت تقسیم صفحه سال چھا تین اہ آیاہ کیلئے گیا۔شیعہ صاحبان کا انتظار بڑھتا گیا۔ملالہ دو میں معلوم مولی کلا عر فاضل بے نظیر مصنف ہے عدیل مولانا حضرت پورا صفحہ را که قادیان مطلع گورداسپور مین میرزا امام احمد صاحب عبدالعزیز رحمت اله علی نے کہا تھا اور ہم نے اپنی انکلون راین قادری انا نے مہدیت کا دعوے کیا ہوا ہے اورلہ سے پورا ہوتا کہ کیا یہ کوئی توڑی بات نہیں سار ایک کالم اس بہیت کے مصداق دو ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اسی دنیا کے منکرین کا مونھ کالا کرنے کے لئے کافی ہے سب لو له حرمین ایک حدیث شریف کی کہ دو سے ماہ رمضان منکرین ملکہ کوئی ایسا د ی صد در میت کہا دین جس کے بین کسوت خسومت کا ہونا مرادہ تھا جو واقع ہو گیا اور اس حق میری اس قدر شده من صادق آتا ہو مومن سیتی سنتر *۔۔$ ۲۵ کام