چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 229 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 229

229 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی وَإِذَا الرُّسُلُ أُقتت (المرسلات (12) یہ وہ زمانہ ہوگا جب سب رسول اس وقت مقرر پر لائے جائیں گے یعنی مسیح و مہدی جو آنحضرت کی غلامی میں آئے گا ، اس کا آنا سب نبیوں کا آنا ہوگا۔آیت 15 میں مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہونے والی اس سورت میں ”یوم الفصل یعنی فیصلہ کے دن کے حوالہ سے فتح مکہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ المرسلات (16) اور واضح فرمایا کہ وہ دن خدا کے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی تباہی کا ہوگا۔یہ دن قیامت نہیں ہوسکتا کیونکہ اس دن کوئی نبی مبعوث نہیں کیا جائے گا بلکہ دنیا سے متعلق ہی یہ سب آیات ہیں۔چنانچہ آیت 31 میں آخری زمانہ کے مامور کو جھٹلانے والوں کے لیے تین شعبوں والے عذاب کا ذکر ہے یعنی ایسی عالمی جنگ عظیم جو بری، بحری اور فضائی حملوں پر مشتمل ہوگی اور آسمان سے آگ کے شعلے پھینکے گی۔یہ واقعہ بھی قیامت کا نہیں بلکہ اسی دنیا کا ہے جن کے ظہور کے بعد قیامت کے ثبوت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔اس لیے اس کے بعد آخر میں اس قیامت کا ذکر ہے جس پر بعثت مسیح موعود روحانی قیامت کی ایک دلیل ہے۔سورۃ النبا میں اسلام کی فتح کی خبر چوتھی کی سورت نبسا ہے جو رسول اللہ علیہ کے بال سفید کرنے کا موجب ہوئی۔اس سورت میں بھی گزشتہ سورۃ مرسلات کا مضمون جاری رکھتے ہوئے یوم الفصل یعنی فیصلہ کے دن کی حقیقت نبأ عظیم یعنی عظیم الشان خبر کے طور پر فتح مکہ کی پیشگوئی بیان کی گئی ہے۔جس کے ظہور کو آخرت کی دلیل اور ثبوت کے طور پر پیش کیا اور بتایا کہ انکار کرنے والے اس دنیا میں عذاب کے مورد ہوں گے۔