چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 15 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 15

15 تعارف ایسی معزز بنی اور کم ہی ہوں گے جو سوچتے ہوں گے کہ اگر امام مہدی کے تصور کو اس صدی سے نکال دیا جائے تو اس کی قیمت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے اور بہت کم ہوں گے جو اس فکر میں غلطاں ہوں کہ اگر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ساری باتیں لفظاً لفظاً سچی ثابت ہوئیں، یہاں تک کہ چاند سورج نے بھی آسمان سے گواہی دے دی ، تو وہ امام آخر کہاں گیا جس کی صداقت کی شہادت چاند سورج نے دینی تھی۔راقم الحروف اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہے کہ میرا ایک ایسی جماعت سے تعلق ہے یعنی جماعت احمدیہ، جس کا ذہن مذکورہ تمام الجھنوں سے پاک ہے کیونکہ ہم آنحضرت عیہ کی تمام پیشگوئیوں کو نہ صرف اعتقاداسچا مانتے ہیں بلکہ عملاً گواہی دیتے ہیں کہ وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہو گئیں اور وہ امام بھی صدی کے سر پر آ گیا جس نے قادیان سے تیرھویں صدی کے آخر اور چودھویں کے سر پر یہ اعلان کیا کہ میں ہی وہ امام اور تمثیلی مسیح ہوں جس کے آنے کی خبر آ نحضرت ﷺ نے دی تھی۔پس ہمیں تو وہ امام مل گیا اور وہ دولہا بارات لے کر آ گیا جس کی صدیوں سے انتظار تھی۔اس لیے ہم خوش قسمت ہیں اور اپنے رب سے راضی ہیں کہ اس نے پورے ایک سو سال تک ہمیں اپنے دین کی راہ میں عظیم الشان قربانیوں کی تو فیق بخشی۔پس ہم تو اس صدی کو کسی ظاہری شان و شوکت یا ڈھول ڈھمکوں کے ساتھ رخصت نہیں کر رہے بلکہ ہمارے دل حمد و ثناء سے معمور ہیں اور ہم اس عزم اور دعاؤں کے ساتھ اس صدی کو الوداع کہہ رہے ہیں اور آنے والی صدی کا استقبال کر رہے ہیں کہ اے خدا ہمیں پہلے سے بھی بہت بڑھ کر محمد مصطفی یا اے کے دین کو دنیا میں غالب کرنے کی توفیق عطا فرما اور پہلے سے بڑھ کر اس راہ میں قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا فرما تا کہ چودھویں صدی اگر غلبہ اسلام کی تیاری کی صدی تھی تو پندرھویں صدی غلبہ اسلام کی تکمیل کی صدی بن جائے اور سارے جھوٹے خداؤں پر ہمیشگی کی موت آجائے اور توحید خالص جو حضرت محمد مصطفیٰ نے دنیا کے سامنے پیش کی اُس کے نور سے سارا عالم بھر جائے۔یہی وجہ ہے کہ دوصدیوں کے اس عظیم سنگم پر وداع و استقبال کیلئے جو الوداعی اور استقبالیہ کلمہ ہمارے امام نے حرز جان بنانے کی تلقین کی اور فرمایا کہ قیام توحید کی خاطر اب دن رات اس کلمہ کا ورد کرو کیونکہ روحانی دنیا کے وداع و استقبال اسی طرح کے ہوتے ہیں۔وہ کلمہ یہ ہے:۔