چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 14 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 14

14 تعارف یہاں تک تو ہم استدلال کی قوت سے پہنچ گئے مگر دل کچھ مزید اطمینان کا بھی تقاضا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی ایسی قطعی شہادت بھی ملے جس سے نہ صرف یہ صدی یقینی طور پر معین ہو جائے بلکہ اس کا سریعنی آغاز کا زمانہ بھی کھل کر سامنے آجائے کہ ہاں اس وقت کسی امام نے آنا تھا جب اس طمانیت کی جستجو میں ہم فرمودات حضور اکرم پر نظر ڈالتے ہیں تو اچانک نگاہ ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان پیشگوئی تک پہنچ کر اٹک جاتی ہے جو امام مہدی کے ظہور سے تعلق رکھتی ہے اور بعض ایسی علامات کو بیان کرتی ہے جو آسمان سے تعلق رکھنے والی ہیں اور جن کے بنانے پر کسی انسان کا کوئی اختیار نہیں بلکہ ساری دنیا کی طاقتیں بھی مل جائیں تو ان علامات کو بنانے پر قدرت پائیں۔ہماری مراد اس پیشگوئی سے ہے کہ جب امام مہدی ظاہر ہوں گے تو ان کی گواہی میں چاند اور سورج مخصوص شرائط کے ساتھ گواہی دیں گے۔اس پیشگوئی کا تفصیلی ذکر اس رسالہ میں قارئین مطالعہ فرما سکتے ہیں۔فیصلہ کن بات یہ ہے کہ یہ پیشگوئی اگر چودھویں صدی کے آغاز پر، ان تمام شرائط کے ساتھ پوری ہو چکی ہو، جن کا ذکر ملتا ہے تو اس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جائے گی کہ چودھویں صدی کا تذکرہ بے سبب نہ تھا اور علماء نے یونہی اپنے نفس سے بے تکی باتیں نہیں کی تھیں بلکہ قرآن وحدیث کے واضح اشاروں سے جو استدلال انہوں نے کیا یا خود خدا سے خبریں پاکر اس صدی کی نشاندہی کی تو خدا تعالی کی فعلی شہادت نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ ان کے تمام استدلال درست تھے اور واقعتاً آنے والے امام نے چودھویں صدی کے سر پر ہی ظاہر ہونا تھا۔آئندہ چند صفحات میں اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ مختلف مکاتب فکر کی طرف منسوب ہونے والے اپنے اپنے خیال اور اعتقاد کے مطابق مختلف علماء یا کتب کو نسبتا زیادہ وزن دیتے ہیں، کوشش کی گئی ہے کہ بزرگانِ سلف میں سے متفرق مکاتب فکر کے چوٹی کے بزرگان اور علماء کے بعض حوالے نمونة پیش کیے جائیں۔اُمید ہے یہ مطالعہ اور عزیزم حافظ مظفر احمد صاحب کی یہ نہایت پاکیزہ کوشش قارئین کی علمی پیاس بجھانے کا موجب بنے گی۔لیکن آخر پر میں اس درد آمیز تعجب کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر چہ تمام عالم اسلام بڑی شان و شوکت اور اہتمام کے ساتھ اس صدی کو الوداع کہہ رہا ہے مگر کم ہی ہوں گے جن کو یہ خیال آتا ہو گا کہ وہ امام کہاں گیا جس کے دم قدم سے برکت پا کر یہ صدی ہماری نظر میں