چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 13 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 13

13 تعارف سے پہلے خلافت جاری کی تھی۔جیسے فرمایا: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ ( النور : 56) پس یہ عجیب مشابہت ہے کہ پہلا نبی پہلے نبی کے مشابہ اور بعد میں آنے والے نائبین رسول حضرت موسیٰ کے بعد آنے والے نائبین کے مشابہ ہوں گے۔جب اس مضمون پر مزید غور کرتے ہیں اور حدیث سے اس کی تفسیر معلوم کرتے ہیں تو وہاں بھی عین اسی نص قرآن کے مطابق مشابہتوں کا مزید تفصیلی ذکر ملتا ہے۔مثلاً فرمایا: عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ اور مزید بار بار بڑی تحدی کے ساتھ یہ خبر دی کہ میری امت کے آخر پر مسیح ابن مریم آنے والا ہے اور یہ پیشگوئیاں آنحضور نے بڑے تو اتر اور بڑی تاکید کے ساتھ فرمائیں۔یہاں تک کہ تقریباً ساری امت صدیوں سے اس انتظار میں بیٹھی ہے کہ کب وہ زندگی بخش مسیجا نازل ہوگا۔ہمارے مضمون کے تعلق میں جو نہایت دلچسپ بات ذہن میں اُبھرتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح جو حضرت موسیٰ کی شریعت کے آخری خلیفہ اور اسی شریعت کے تابع ایک غیر تشریعی نبی تھے ، حضرت موسیٰ سے تیرہ سو سال بعد یعنی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوئے۔پس یہ کیا اتفاق ہے یا توارد ہے یا تقدیر الہی ہے کہ امت محمدیہ کا پہلا صاحب شریعت رسول امت موسویہ کے پہلے رسول کے مشابہ ہو، امت محمدیہ کے اہل اللہ علماء انبیائے بنی اسرائیل کی شان رکھنے والے ہوں اور جیسے حضرت موسیٰ کے آخرین میں حضرت مسیح ابن مریم آئے تھے ایسا ہی اس امت کے آخر میں بھی مسیح ابن مریم ہی آئے۔یہاں تک بات واضح اور قطعی اور قرآن وحدیث کی نصوص کے عین مطابق ہے۔لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ حضرت مسیح ناصری بھی چودھویں صدی کے سر پر آئے تھے اور علمائے امت مسلمہ بھی بکثرت ہمیں یہ بتاتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کہ امام مہدی ، جن کا زمانہ نازل ہونے والے مسیح ابن مریم کے زمانہ سے مشترک ہوگا ، نے بھی چودھویں صدی کے سر پر آنا تھا۔جب اس پہلو سے علماء کی پیشگوئیوں پر غور کرتے ہیں تو معاملہ صرف ان کی حد تک نہیں رہتا بلکہ بات قرآن وحدیث تک جا پہنچتی ہے اور دل بڑی سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنے کیلئے مجبور ہو جاتا ہے کہ دراصل اس صدی کی اہمیت ایک عظیم الشان آسمانی مصلح کے ظہور سے ہی وابستہ تھی ورنہ اگر امام ہتمام کا تصور اس صدی سے نکال دیا جائے تو اس صدی کی کوئی بھی امتیازی شان دوسری صدیوں سے باقی نہیں رہتی۔