چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 240
240 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی پر ایسی ضرورت کے وقت میں مجدد نے آنا تھا سولہ 16 برس گزر گئے لیکن آپ لوگوں نے اب تک مسیح موعود کی ضرورت محسوس نہیں کی۔زمین نے صلیبی مذہب کے غلبہ کی وجہ سے مسیح موعود کی ضرورت پر گواہی دی اور آسمان نے خسوف کسوف کو رمضان میں عین مقررہ تاریخوں پر دکھلا کر اُس مہدی معہود کے ظاہر ہو جانے کی شہادت دی۔اور جیسا کہ مسیح کے وقت کی نشانی لکھی تھی اونٹوں کی سواری اور بار برداری میں بھی ریل گاڑیوں نے فرق ڈال دیا اور جیسا کہ علامات میں لکھا تھا ملک میں طاعون بھی پھوٹی ، حج بھی روکا گیا اور اہلِ کشف نے بھی اسی زمانہ کی خبر دی اور نجومی بھی بول اُٹھے کہ مسیح موعود کا یہی وقت ہے اور جس نے دعویٰ کیا اُس کا نام بھی یعنی غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے یعنی تیرہ سو 1300 کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔مگر آپ لوگوں کی اب تک 66 آنکھ نہیں کھلی۔“ اسی حوالہ کے حاشیہ میں فرمایا:۔اخبار ڈان میں جس سے پرچہ ٹریبیون مورخہ 8 جولائی 1899 ء نے نقل کیا ہے ایک فاضل منجم کی یہ پیشگوئی شائع کی گئی ہے کہ 1900 عیسوی کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور یہ دونوں سن یعنی 1890ء تا 1900 ء ایک عظیم الشان دورہ ختم کرتے ہیں جس کے خاتمہ پر سورج منطقه البروج کے ایک نئے بُرج میں داخل ہوتا ہے اور اس ہیئت کی تاثیر سے یعنی جبکہ سورج ایک نئے برج میں داخل ہو جیسا کہ قدیم سے ہوتا رہا ہے۔1900ء میں زمین پر مسیح کلمۃ اللہ کا ایک نیا اوتار اور خدا کا ایک نیا مظہر ظہور کرے گا اور وہ مسیح کا مثیل ہوگا اور دنیا کو بیدار کر کے ایک اعلیٰ زندگی بخشے گا۔دیکھوٹر یون 8 جولائی 1899 ء مطبوعہ لاہور تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 158-157 ایڈیشن 2008)