چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 241 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 241

241 مسیح و مہدی کا شدت سے انتظار مسیح و مہدی کا شدت سے انتظار تیرھویں اور چودھویں میں بڑی شدت ، بے قراری اور اضطراب سے مسیح و مہدی کا انتظار تمام مذہبی حلقوں میں کیا جارہا تھا۔ایک طرف علمائے امت کو اس کا زمانہ پا کر اُسے رسول اللہ کا سلام پہنچانے کی تمنا تھی تو دوسری طرف عوام الناس سراپا انتظار۔مسلمان شعراء اس کی عظمت وشان اور مدح و ستائش میں نغمہ سرا تھے اور اپنے قصیدوں کے ہار لیے اس موعود کیلئے چشم براہ۔صوفیائے کرام اور اولیائے عظام وصیتیں کرتے گذرے کہ جب مہدی آئے تو اسے قبول کرنا ، اسے رسول اللہ کا سلام پہنچانا اور وہ اس کے جلد ظہور کیلئے خدا کے حضور دست بدعا ر ہے۔وصیت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (متوفی: 1175ھ ) 66 حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے اپنی ایک وصیت میں لکھا ہے:۔اس فقیر آرزوئے تمام دارد اگر ایام حضرت روح الله علیه السلام را در یابد اول کسے کہ تبلیغ سلام کند من باشم وگر من آنرا نہ دریافتم ہر کسے کہ از اولا دیا اتباع ایس فقیر زمان بہجت نشان آنحضرت علی نبینا وعلیه السلام در یا بد حرص تمام کند در تبلیغ سلام تا کتیبه آخره از کتائب محمد یه ما باشیم “ یعنی یہ فقیر انتہائی آرزو رکھتا ہے کہ اگر امام مہدی اس عاجز کے زمانہ میں ظاہر ہوں تو پہلا شخص حضرت امام مہدی کو اپنے پیارے آقا کا سلام پہنچانے والا یہ فقیر ہو۔اگر میری اولا دیا میرے متبعین کے زمانہ میں امام مہدی کا ظہور ہو تو پورے خلوص اور شوق کے ساتھ نبی پاک کا سلام ان کی خدمت میں پیش کریں تا کہ ہم محمدی لشکر کے آخری دستہ میں شامل ہوں۔ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 69: مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ جلد دوم صفحہ 534 شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی