چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 239 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 239

239 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی شریف میں تھا کہ آخری زمانہ میں کئی نہریں نکالی جائیں گی۔ایسا ہی اور بھی بہت سی علامتیں ظہور میں آئیں جو آخری زمانہ کے متعلق تھیں۔اب چونکہ ضرور ہے کہ تمام علامتیں یکے بعد از دیگرے واقع ہوں اس لئے یہ ماننا پڑا کہ جو علامت ذکر کردہ عنقریب وقوع میں نہیں آئے گی وہ یا تو جھوٹ ہے جو ملایا گیا اور یا یہ سمجھنا چاہئیے کہ وہ اور معنوں سے یعنی بطور استعارہ یا مجاز وقوع میں آگئی ہے۔اور طریق عقلی بھی یہی چاہتا ہے کہ مسیح موعود کا اسی طرح ظہور ہو کیونکہ عقل کے سامنے ایسی کوئی سنت نہیں جس سے عقل اس امر کو شناخت کر سکے کہ آسمان سے بھی لوگ صدہا برس کے بعد نازل ہوا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے نئے نشان بھی یہی گواہی دے رہے ہیں۔کیونکہ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو بموجب وعدہ قرآن شریف چاہیئے تھا کہ جلد تباہ ہو جاتا۔لیکن خدا اس کو ترقی دے رہا ہے۔بہت سے نشان ایسے ظاہر ہو چکے ہیں کہ اگر ایک منصف سوچے تو بدیہی طور پر ان نشانوں کی عظمت اُس پر ظاہر ہوسکتی ہے۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 312-314 ایڈیشن 2008) پھر فرمایا: ”جس مہدی یا مسیح نے آنا تھا وہ آچکا۔کیا ضرور نہ تھا کہ وہ مسیح غلبہ صلیب کے وقت آتا؟ کیا سب سے اول درجہ کی علامت مسیح موعود کی یہ نہیں ہے کہ وہ صلیب کے غلبہ میں آئے گا۔اب خود دیکھ لو کہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں صلیبی مذہب کس قدر ترقی کرتا گیا اور کس قدر نہایت سُرعت کے ساتھ اس کا قدم دن بدن آگے ہے۔ایسی قوم ملک ہند میں کونسی ہے جس میں سے ایک جماعت اس مذہب میں داخل نہیں کی گئی۔کروڑہا کتابیں اور رسالے دینِ اسلام کے رڈ میں شائع ہو چکیں یہاں تک کہ اُمہات المومنین جیسی گندی کتاب بھی تمہاری تنبیہ کے لئے عیسائیوں کے ہاتھ سے شائع ہوئی۔بیچاری چودھویں صدی میں سے بھی جس