سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 92
معذرت نامہ ہیں۔جب میں اس کی گزشتہ تصنیفات کا مختصر جائزہ سلسلہ وار پیش کروں گا تو یہ بات جلد ہی نمایاں اور واضح ہوکر سامنے آجائیگی۔گریمس Grimus گریمس ارشدی کا سب سے پہلا ناول تھا جو اس نے 1975ء میں لکھا تھا۔کس کو خبر تھی کہ اس کے ان ابتدائی الفاظ کی اشاعت کے ساتھ جن سے اس کی ادبی زندگی کی ابتدا ہوئی ، وہی اس کے کچھ سال کے بعد اس کی شخصیت کا عجیب اور پر اسرار رنگ میں پر تو ثابت ہوں گے۔اس ناول کے پہلے باب کے ابتدائی الفاظ پر غور فرمائیں : "مسٹر ورجل جونز ، جس کے کوئی دوست احباب نہ تھے اور جس کی زبان اس کے منہ کے حساب سے بہت لمبی تھی۔" اس حوالہ کے حساب سے مسٹرور جل جونز بذات خود سلمان رشدی بھی کچھ سالوں بعد ہوسکتا تھا۔گریمس ، ناول در اصل فکشن کا ناول تھا جس کو رشدی نے 'الف لیلۃ ولیلۃ' کی طرز پر لکھنے کی کوشش کی ہے۔اس میں اس نے صوفیاء کے تصوف کو استعمال کیا تا کہ ناول ذرا " نشاط انگیز ، تصورات سے بھر پور، عجب رنگ کی صداؤں سے لدا ہوا " بن جائے۔تصوف نے مغربی قارئین کو ہمیشہ ہی ورطہ حیرت میں ڈالے رکھا ہے اس لئے رشدی نے اپنے کیرئیر کے آغاز میں ان کی توجہ کا مرکز بن کر غیر معمولی طور پر اپنا لوہا منوالیا۔کچھ بھی ہو " گریمس " کا لوگوں نے زیادہ نوٹس نہ لیا ، یہ پراگندہ قسم کا ناول تھا جس میں کوئی تسلسل، ربط نہ تھا، اس کا کوئی ادبی طرز تحریر نہ تھا لیکن ایک بات جو کھل کر سامنے آگئی وہ یہ تھی کہ رشدی پر سیکس کا خبط سوار تھا، نیز اس کا نخش ، بازاری سٹائیل جو اس نے اپنی تحریر میں استعمال کیا جس سے مغربی قاری اس کا قائل ہو گیا۔مثال کے طور پر : " میں شہر میں ایک دفعہ یوں بھا گا کہ میری سیکس باہر لٹک رہی تھی پھر میں نے جبکہ میری پتلون گری ہوئی تھی عورتوں کے چہروں پر ہوا خارج کی۔" (239 Grimus, page) گہرے غور و فکر کے بعد انسان کو احساس ہوتا ہے کہ سٹینک ورسز ایک قسم کا گریمس ناول کا شاندار چربہ تھا۔دونوں کتابوں میں مشابہت حیران کن ہے۔مصنف دونوں کتابوں میں تصوف کا سفر جاری رکھتے ہوئے وقت کی حدود کو حال سے ماضی میں پھلانگ جاتا ہے، یا اس کا الٹا یعنی ماضی 92