سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 93 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 93

صلى الله سے حال۔گریمس کو کتاب کے دو معین حصوں میں بیان کیا گیا ہے ، یعنی حال کا وقت اور ماضی کا وقت۔جبکہ سٹینک ورسز میں وہ وقت کی حدود کو زیادہ تواتر سے پھلانگتا ہے تا کہ قاری کو الجھا سکے۔گریمس میں رشدی نے تاریخی ہستیوں کو بڑے شاطرانہ طور پر چھپا لیا ہے خاص طور پر اسلام کی بزرگ ہستیاں۔کتاب کے دوسرے حصے Times Past میں K سے مراد لازمی طور کعبہ ہی ہے یا شاید قرآن۔ایک آدمی کا بیان جس کو وہ سٹون کا نام دیتا ہے اس سے مراد لا ز ما نبی پاک و ہی ہیں۔اس نے مسلمانوں کا اپنے مذہب کی اندھی تقلید پر نیز اس پر کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار آزادانہ طور پر نہیں کر سکتے تمسخر اڑایا ہے۔مثلا کتاب کے ٹائیٹل کے اندر کے صفحہ پر لکھا ہے : " تم " کے "K شہر پہنچو گے جہاں ایسے انسان ہیں جن کی آنکھوں پر دبیز پر دے اور جو عجیب قسم کے شہری ہیں ، جو خود کو اندھیرے میں رکھ کر اپنے اور اپنے جزیرے کے بارہ میں نا قابل قبول سچائیوں کو قبول کرتے ہیں۔" حتی کہ خدا کے تصور کا بھی تمسخر کیا گیا ہے ، امر واقعہ یہ ہے کہ گریمس سے مراد خدا بذات خود ہے بمقابلہ دی گرم ریپر کے (The Grim Reaper )۔رشدی نے بڑی ہوشیاری اور عیاری کے ساتھ قرآن پاک کی سورۃ الرحمن کے طرز کی نقل کی ہے جہاں اللہ کی مہربانیوں کے انکار کا ذکر آیا ہے: " یقینا گریمس نے بڑے تحمل سے کہا، میرا تمہیں اپنے عظیم الشان تخلیق کے مطابق مکمل طور پر دوبارہ بنانے سے گویا صرف مٹی بن گئے۔۔۔کیا تم انکار کرتے ہو کہ تمہیں اپنا مہبط بنا کر میں نے تمہاری آئندہ زندگی کو صورت دی۔۔۔کیا تم انکار کرتے ہو کہ میں نے تمہیں کا ئنات میں صدیوں تک کیلئے گھومنے پھرنے کی اجازت دینے کی بجائے تمہیں یہاں لا کر میں نے وہ انسان بنایا جو الجھا ہوا، اور گرگٹ کی طرح صورت حال کے مطابق رنگ بدل لیتا ہے۔۔۔کیا تم انکار کرتے ہو ؟ کیا تم انکار کرتے ہو؟ ( پھر اس نے اپنی آواز دھیمی کرتے ہوئے کہا): اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا تم انکار کرو گے؟ "(صفحہ 294-293) ذرا غور فرمائیں کہ رشدی نے کس طرح قرآن پاک کے طریق بیان کو فرضی خدا، گریمس اور اس کے ایک کردار کے درمیان گفتگو میں استعمال کیا ہے۔قرآن پاک کی متعلقہ آیات درج ذیل ہیں : اَلرَّحْمَنُ - عَلَّمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ - عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (سورة الرحمن -5-55:2) 93