سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 91 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 91

باب گیارہ رشدی ، عفریت کا جنم معلوم قبل اس کے کہ میں اسٹینک ورسز پر حقیقت پسندی کے ساتھ نظر ڈالوں ، مناسب مع ہوتا ہے کہ سلمان رشدی کی گذشتہ کتابوں پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تا اس کی ادبی طرز تحریر، اس کی طرزفکر اور اور اس کے دماغ پر مسلط خبط کا تجزیہ کیا جاسکے جس نے اس کو رسوائے زمانہ ناول لکھنے پر مجبور کر دیا۔اس کی طرز تحریر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ الجھی ہوئی اور پراگندہ قسم کی ہے۔اس کے خیالات زیادہ تر مذہبی اور سیاسی ہیں، اور اس کے دماغ پر مسلط جنسی قسم کے خبط زیادہ مسلط ہیں جن میں مخش قسم کی گھٹیا بازاری زبان استعمال کی گئی ہے۔رشدی کے ناولوں سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے تصورات ایسے بے لگام ہیں، جن کی کوئی حد نہیں اور ان میں موجود بے لگامی مغربی قارئین کو متوجہ کرتی ہے جو غیر معمولی اور ہیجانی کیفیت کو پسند کرتے ، اور اگر معمولی معمولی وقفے کے بعد اس میں سیکس اور ہوس پرستی کو شامل کر دیا جائے تو پھر مغربی قاری اس پر لٹو ہو جاتا ہے۔یہ اس دور کا بہت بڑا المیہ ہے کہ مغرب پر ہر قسم کی سیکس کا جادو چھایا ہوا ہے، جتنا زیادہ یہ نیم وحشی ہوگا اتنا ہی اچھا ہے۔رشدی کے ناول پڑھ کر قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ اشاروں کنایوں اور معموں سے بھرے ہوئے ہیں۔ان پر معمولی سا غور کرنے سے انسان یہ جان لیتا ہے کہ ان کا لکھنے والا گمراہ کن اور اشتہا پسند دماغ کا مالک ہے جو شرافت کی حدود بار بار بڑی بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ پھلانگ جاتا ہے۔اس کے ناول پڑھ کر اس کے مذہب، سیاست اور سیکس کے بارہ میں خیالات معلوم ہو جاتے ہیں۔اس کی پوشیدہ گستاخی اور ہیجانی خوف ابھر کر سطح آب پر آجاتی ہے۔۔سٹینک ورسز سے قبل کی تصنیفات در حقیقت ایک قسم کا عذر اور بعد میں آنیوالی رسوائے زمانہ کتاب کا 91