سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 195
فروری 1989ء عم رشدی کے بیانات اگر آپ کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کرنا چاہتے ، تو آپ کو اس کے مطالعہ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔یہ غیر ممکن ہے کہ کسی کے جذبات دی سٹینک ورسز سے انگیخت ہوں۔دی سٹینک ورسز اسلام پر حملہ نہ تھا اور نہ ہی کسی اور مذہب پر۔سچی بات تو یہ ہے کہ کاش میں نے اس سے زیادہ تنقیدی کتاب لکھی ہوتی۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ اسلامی بنیاد پرستی کو اس وقت تھوڑی تنقید کی ضرورت ہے۔دی سٹینک ورسز کے مصنف کی حیثیت سے مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں مسلمان میرے ناول کی اشاعت سے دلی طور پر دلگیر ہوئے ہیں۔ہم سب کو دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا چاہئے۔اگر چہ میرا تعلق مسلمان گھرانے سے ہے لیکن میری پرورش بحیثیت مسلمان کے نہ ہوئی تھی لیکن اب میں اقرار کرتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔میں اسلام کا صحیح چہرہ دنیا میں پیش کرنے کیلئے تندہی سے کام کرتا رہوں گا جیسا کہ میں نے ماضی میں ایسا کرنیکی کوشش کی ہے۔فروری 1992ء کسی کی دلآزاری کرنا کبھی بھی کسی آزاد معاشرہ میں پابندی کی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔کاش که (برطانوی حکومت میرے لئے یہ یقین کرنا آسان بنا دے کہ وہ پورے زور اور عزم کے ساتھ میری پشت پر ہے۔195