سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 194
آنحضرت ﷺ کی ذات پر جب حملہ ہو تو وقتی جوش کی بجائے، جھنڈے جلانے کی بجائے، توڑ پھوڑ کرنے کی بجائے، ایمبیسیوں پر حملے کرنے کی بجائے اپنے عملوں کو درست کریں کہ غیر کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ہی نہ ملے۔کیا یہ آ گئیں لگانے سے سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی عزت اور مقام کی نعوذ باللہ صرف اتنی قدر ہے کہ جھنڈے جلانے سے یا کسی سفارتخانے کا سامان جلانے سے بدلہ لیا جائے۔نہیں ہم تو اس نبی کے ماننے والے ہیں جو آگ بجھانے آیا تھا، وہ محبت کا سفیر بن کر آیا تھا، وہ امن کا شہزادہ تھا۔پس کسی بھی سخت اقدام کی بجائے دنیا کو سمجھا ئیں اور آپ کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتائیں یہ پانچ منٹ کی آگ تو بجھ جائیگی ہماری آگ تو ایسی ہونی چاہئے جو ہمیشہ لگی رہنے والی آگ ہو۔وہ آگ ہے آنحضرت ﷺ سے عشق و محبت کی آگ جو آپ کے ہر اسوہ کو اپنانے اور دنیا کو دکھانے کی آگ ہو جو آپ کے دلوں اور سینوں میں لگے تو پھر گی رہے۔یہ آگ ایسی ہو جو دعاؤں میں بھی ڈھلے اور اس کے شعلے ہر دم آسمان تک پہنچتے رہیں۔“ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ: مختلف قومیتوں کے درمیان مل جل کر کام کر نے کا یہی طریقہ ہے تا عالمی امن اور مصالحت قائم کی جا سکے۔اس سے پہلے بھی رشدی ہو گزرے ہیں اور میں یہ کہنے کی جرات کرتا ہوں کہ مستقبل میں بھی رشدی جیسے پیدا ہوں گے جو مناقشت اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ان کی فطرت ہی گندی ہے۔لیکن ہر وہ شیطان رشدی جو اپنا ذلیل و مکروہ سر اٹھانے کی جرات کرے گا اس کے جواب میں ہزاروں ہزار ایسے شریف النفس انسان بھی ہوں گے جوان گستاخیوں کا عقلی طریقے سے باہمی گفتگو کے ذریعہ جواب دیں گے۔اور ایسے ملین در ملین افراد بھی ہوں گے جو پیغمبر اسلام نبی پاک ﷺ پر دن رات ہمیشہ درود بھیجتے رہیں گے۔مجھے یقین واثق ہے کہ ایک روز پوری دنیالا زما ہمارے پیارے نبی ﷺ کی مبارک بعثت کی صحیح وجہ جان لے گی۔اور وہ وجہ یہ تھی کہ پوری نوع انسانی کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا جائے یعنی اسلام کے جھنڈے تلے جس کے معنی ہیں امن و آشتی۔آمین (تفصیل کے لئے مطالعہ فرمائیں اسوہ رسول ﷺ اور خاکوں کی حقیقت " از حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 61 85372908 1 :ISBN]) الله 194