سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 150
لگائے جاتے ہیں۔زنا کاروں کو سنگساری سے ہلاک کیا جاتا ہے۔اور چوروں کے ہاتھ کاٹ دئے جاتے ہیں"۔کلرائے سلک نے سادہ لوحی سے حقائق کو توڑ موڑ کر عمداً اس لئے بیان کیا ہے تا وہ اپنے مضمون کو اثر انگیز بنا سکے۔اور یقینا اس نے مذہب اور تہذیب کو آپس میں گڈ مڈ کر دیا ہے۔وہ گزشتہ ایک ہزار سال کی برطانوی تہذیب کی بات کرتا ہے جس کی وہ گردن تان کر بات کرتا ہے۔بلا شبہ برطانوی کلچر میں قابل تحسین سنگ میل آئے ہیں جن میں سے بعض تو ابھی تک قائم ہیں۔لیکن مسٹر کلرائے سلک کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ گزشتہ ایک ہزار سال میں جو کچھ ہو گزرا اس کا تک خداورسول کے معاملات، کتابوں کے نذر آتش کئے جانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ عیسائی اقوام ہیں جو گزشتہ ایک ہزار سال میں خاص طور پر ایک سو سال میں ایسے قبیح مسائل میں سب سے آگے رہی ہیں۔( اس مسئلہ پر اس کتاب کے ایک باب میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے )۔یہ کہنا ٹھیک ہے کہ تمام اقوام اور تہذیبوں میں زیر و بم آتے رہے اور ہر تہذیب میں اچھے اور برے پہلو بھی ہیں۔مسلمانوں کی تشدد پسندی کے معاملہ میں مغربی ذرائع ابلاغ کچھ زیادہ ہی حد سے آگے نکل گیا ہے اور اس چیز کو مسلمانوں کے عام نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا ہے۔کتنا اچھا ہوتا اگر کلر ائے سلک نے اپنے دلائل غور و فکر کے بعد تیار کئے ہوئے بجائے تکبرانہ رویہ کے اظہار کے جس کا مظاہرہ اس نے کیا ہے۔یقین جانیں آج کی مغربی تہذیب کی کمزوریاں اگر ہم بیان کرنا شروع کریں تو ان کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔کلرائے سلک جو کہ ایک اونچے درجہ کی جانی پہچانی شخصیت اور جو ٹیلی ویژن پر تواتر سے دکھائے جانیوالے مباحثہ کے ناظرین میں قبولیت عامہ رکھتا ہے اس کو بذات خود رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے جس کی مسلمانوں میں عدم موجودگی کا وہ رونا روتا ہے۔اسے چاہئے کہ جب وہ دوسروں کے بارہ میں کوئی رائے دے تو وہ الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتے۔کیتھ وارڈ (Keith Ward) کنگز کالج لندن یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ اور مذہب کا پروفیسر ہے ، وہ بھی اکثریت والے راسخ الاعتقاد مسلمانوں کے خیالات سادہ لوحی سے پیش کرنے کے معاملہ میں اسی دام میں پھنس گیا ہے۔اس نے کم تر تعداد والے شرارت پسندوں کی آراء کو جلی 150