سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 151 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 151

سرخیوں سے جذبات انگیز رنگ میں پیش کیا ہے۔اخبارا دی انڈی پینڈنٹ ' کی 18 فروری 1989ء کی اشاعت میں وہ مسلمانوں میں تنزل اور جدید اسلام کے تشدد والے عطیات ' کا ذکر کرتا ہے۔کلفرڈ لینگ لی (Clifford Langley ) دی ٹائمنر کی 8 جولائی 1989ء کی اشاعت میں ایک عجیب وغریب مفروضہ پیش کرتا ہے جو منطقی اصولوں کو للکارتا ہے۔" کتابوں کا نذرآتش کیا جا نالا زمی طور پر دکانوں کے نذر آتش کئے جانے کیطرف آمادہ کرتا ہے۔قتل کرنے کی بات چیت واقعی قتل کرواتی ہے "۔وہ مسلمانوں کی علیحدگی یعنی اپنے ہی دائرہ ہائے زندگی میں رہنے کے میلان کو ہدف تنقید بناتا ہے اور مزید شوشہ چھوڑتا ہے کہ مسلمان ہمارے معاشرے میں تبھی قابل قبول سمجھے جائیں گے جب وہ اپنے عقائد اور ثقافت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں گے۔یہ کہنا مناسب ہوگا کہ بہت سارے مسلمان اس زبردستی کی مصالحت کا نشانہ بن گئے ہیں بعض طوعاً اور بعض کر ہا اپنے احباب کے زیر اثر۔وہ لوگ جو اپنے نظریات کا بے تکا اظہار کرتے ہیں ویسٹرن میڈیا ان کی تعریف کے گن گانے لگتا ہے۔اس کے بعد ان لوگوں کو اپنے دین کو مختلف ذرائع سے ( جیسے کتابوں ، تھیٹ، ٹیلی ویژن کے ڈرامے اور فلم کے ذریعہ ) نقصان پہنچانے کیلئے غیر ملکی فوج کے سپاہی کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔اس کی ایک واضح مثال رشدی کے علاوہ حنیف قریشی کی ہے جو برطانوی مسلمان ادیب ہے۔قریشی کو بھی اسلام کے عقائد کا اپنی کتابوں میں مذاق کرنے پر مسلمانوں کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔اس نے ایک فلم 'مائی بیوٹی فل لانڈریٹ' (My Beautiful Laundrette) کیلئے سکرپٹ لکھا۔یہ فلم جس میں لواطت پسندی پر زور دیا گیا ہے لندن کی پاکستانی کمیونٹی کے متعلق ہے۔اس فلم پر انگلستان اور امریکہ میں بہت لے دے ہوئی۔فلم کا ایک محاورہ 'ہمارا ملک مذہب کی اغلام بازی سے تباہ ہو گیا ہے ، ہی دراصل اس کا مرکزی نقطہ تھا۔حنیف قریشی نے ایک دوسری ٹیلی ویژن سیریز کیلئے سکرپٹ لکھا جس کا نام دی بدھا آف سبر بیا (The Buddha of Suburbia ) تھا۔اس میں پاکستانی ثقافت اور اسلام کے اصولوں کو نشانہ تضحیک بنایا گیا۔اس میں استعمال کی گئی زبان بھی مخش اور قابل مذمت تھی۔لیکن 151)